کراچی، رہزنوں نے ماہ ستمبر میں 207 گاڑیاں، 5 ہزار 399 موٹر سائیکلز، 2 ہزار 464 موبائل فونز چھین لیے

کراچی (انتخاب نیوز) کراچی شہر میں اسٹریٹ کرائمز ، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور قتل غارت و گری کی وارداتوں کا سلسلہ گزشتہ ماہ ستمبر میں بھی بدستور جاری رہا۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے ماتحت افسران کے ہمراہ اجلاسوں میں پیش کی جانے والی کارکردگی رپورٹس میں تو شہر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی پرامن اور آئیڈل بتائی جاتی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں ، شہری نہ تو گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ ہی سڑکوں ، دکانوں اور دفاتر میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ شہر میں روزانہ کی بنیاد پر شہری ڈاکو?ں کے ہاتھوں لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر نہ صرف زخمی بلکہ زندگی سے محروم ہو رہے ہیں ، شہری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ نقدی ، موبائل فونز ، موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سمیت دیگر سامان سے بھی محروم کر دیئے جا رہے ہیں۔ ایک جانب پولیس کے مبینہ مقابلوں میں اسٹریٹ کرمنلز سمیت دیگر جرائم پیشہ عناصر کو زخمی حالت میں ان کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کرنے کا بھی سلسلہ چل رہا ہے، تو دوسری جانب شہر بھر میں دنداناتے ہوئے ڈاکو?ں کے گروہ پولیس کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی موجودگی کا بھی بھرپور احساس دلا رہے ہیں۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ ستمبر میں شہری مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کی 207 گاڑیوں سے محروم کر دیئے گئے جس میں 15 گاڑیاں چھینی اور 192 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا جبکہ متوسط طبقے کی سواری موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی عروج پر رہی اور گزشتہ ماہ ستمبر کے 30 روز کے دوران شہری مجموعی طور پر 5 ہزار 399 موٹر سائیکلوں سے محروم کر دیئے گئے جس میں 730 موٹر سائیکلوں کو ملزمان نے شہر کے مختلف علاقوں سے انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ چھین لیا جبکہ 4 ہزار 669 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔ اسی طرح سے گزشتہ ماہ کے 30 روز کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کے دوران شہریوں سے کروڑوں روپے مالیت کے 2 ہزار 464 موبائل فون چھین لیے گئے۔ شہر میں قتل و غارت گری کے دوران مجموعی طور پر 62 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ، شہر میں اغوا برائے تاوان کا ایک جبکہ بھتہ خوری کے 2 کیس رپورٹ ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں