جامعہ بلوچستان کی رہائشی کالونی میں بجلی کے میٹر زبردستی اتارے جارہے ہیں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (آن لائن)جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام واپڈا کیسکو اور جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے جامعہ کے کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کے گھروں سے غیرقانونی طور پر بجلی کے میٹرز زبردستی نکالنے، جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر، رجسٹرار، ٹریڑار کی جانب سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تحریری معاہدے کے باوجود منظور شدہ پوائنٹس جن میں پروموشن، آپ گریڈیشن، تینوں ایسوسی ایشنز کی کیمپس اور دیگر کمیٹیوں میں نمائندگی، ٹیچرز ہاسٹل میں عارضی طور پر رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے ایک کمرے کا ماہانہ کرایہ 15 ہزار روپے تک بڑھانے۔میڈیکل بلز کی عدم فراہمی، ٹائم سکیل سمیت آپ گریڈیشن کی بقایاجات سے انکار، فوت شدہ ملازمین کے لواحقین کی تعیناتی سے انکار کے خلاف اور ہر مہینے کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی اور تینوں ریسرچ سینٹرز کی اضافہ شدہ 35 فیصد اور ہاوس ریکوزیشن کی بقایاجات سمیت ادائیگی کے لئے منگل کو احتجاجا جامعہ بلوچستان کے ایڈمن اور ایگزامیمشن بند رکھا گیا اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ دریں اثنا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ھنگامی اجلاس زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ منعقد ہوا جس میں ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، آفیسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ اور گل جان سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک غیرقانونی طور پر زبردستی نکالنے والے بجلی کے میٹرز نہیں لایا جائے گا اور تحریری معاہدے کے مطابق پروموشن، آپ گریڈیشن، کیمپس اور دیگر کمیٹیوں میں ایسوسی ایشنز کی نمائندگی کی بحالی، ٹیچرز ہاسٹل میں معاہدے کے تحت ماہانہ کرایہ کا نوٹیفکیشن جاری، ٹائم سکیل سمیت دیگر بقایاجات نہیں دیا جا ئے گا تب تک ایڈمن اور ایگزامینشن بلاک احتجاجا بند رہیگا اور روزانہ احتجاجی مظاہرے منعقد ھونگے، اجلاس میں تمام اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اپیل کی جاتی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں