کوئٹہ،پی ایس او کے زیر اہتمام آن لائن کلاسز کے اجراء کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
کوئٹہ: پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پشتونخوا ایس او)کے زیر اہتمام ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے بلوچستان میں سہولیات کی فقدان کے باوجود آن لائن کلاسز شروع کرنے کے حکم کے خلاف میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ ریلی کی قیادت پشتونخوا ایس او جنوبی پشتونخوا زون کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری ملک عمرکاکڑ کررہے تھے۔ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری محمود، کوئٹہ یونیورسٹی کے سیکرٹری سیف اللہ خان کاکڑ،آئی ٹی یونیورسٹی کے سیکرٹری نواز خان کاکڑ، سائنس کالج کے سینئر معاون سیکرٹری طیب خان کاکڑ ودیگر نے کہا کہ ایک طرف بلوچستان کے 86فیصد عوام کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں جبکہ جن علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے وہ بھی انتہائی کمزور ہے جس کے ذریعے براہ راست کلاس لینا مشکل ہے اسی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے بلکہ اکثر طلباء کے پاس کمپیوٹر کی سہولت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اکثر طلباء جو کورونا وباء کی وجہ سے اپنے آبائی علاقوں میں ہیں ان کے لئے آن لائن کلاسز لینا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف آن لائن کلاسز شروع کئے گئے ہیں تو دوسری جانب سے طلباء سے مختلف جامعات میں فیسز کا مطالبہ کیا جارہا ہے جب کورونا کے باعث پوری دنیا میں لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہے اور معیشت رک چکی ہے لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے عاجز آگئے ہیں ایسے حالات میں جامعات کی جانب سے فیسوں کا مطالبہ کرنا طلباء کو تعلیم سے دور کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کی جانب سے صوبے کے اکثر علاقوں میں انٹرنیٹ، بجلی، کمپیوٹر سمیت دیگر سہولیات کے فقدان کا حقائق پر مبنی رپورٹ نہیں دی گئی بلکہ آن لائن کلاسز شروع کرنے کا رپورٹ دے کر طلباء کے ساتھ زیادتی کی گئی جو صرف اور صرف طلباء سے فیسیں وصول کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ہائیرایجوکیشن کمیشن،جامعات، کالجز سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ آج کے مشکل گھڑی میں طلباء کی فیسوں کو معاف کرنے سمیت جامعات کے لئے ایس او پیز کا تعین کرکے تعلیمی ادارے کھولنے کے لئے احکامات دیں تاکہ کورونا کے باعث کورونا کو ہونے والے نقصان کا ازالہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں ہر شخص کو اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے کا حق حاصل ہے گزشتہ روز بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی کی ریلی پر پر لاٹھی چارج اور گرفتاریاں قابل مذمت ہیں، طلباء و طالبات اپنے مطالبات کے حل کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں انہیں گرفتار جمہوری عمل کی منافی ہے۔ انہوں نے بلوچ طلباء ایکشن کمیٹی گرفتارطلباء کی رہائی کا مطالبہ کیا۔


