جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کا مطالبات کے حق میں احتجاج
کوئٹہ (آن لائن)جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے بروز جمعرات کو بھی اپنے جائز اور منظور شدہ مطالبات کے لئے جامعہ بلوچستان کے ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا اور ایڈمن بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ کیا ،احتجاجی مظاہرے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، ایمپللائز ایسوسی ایشن کے صدر شاہ علی بگٹی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ، ڈاکٹر رفیق سنگت، سید محبوب شاھ اور سیدشاہ بابر نے خطاب کیا، مقررین نے کہاکہ کی انتہائی افسوسناک بات ہے کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر، رجسٹرار، ٹریڑار اور ایک ڈین نے پرموشن ،آپ گریڈیشن، ٹائم اسکیل، ٹیچرز ہاسٹل میں عارضی طور پر رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے کمروں کی ماہانہ کرایوں، فوت شدہ ملازمین کے لواحقین کی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن، کالونی میں رہائش پذیر اساتذہ اور آفیسرز سے 5 فیصد کٹوتی، ڈی آر اے سمیت تمام بقایاجات کی ادائیگی، میڈیکل بلز کی ادائیگی، تینوں ریسرچ سینٹرز کے اساتذہ اور ملازمین کو اضافہ شدہ 35 فیصد تنخواہوں سمیت ہاوس ریکوزیشن کی بقایاجات سمیت ادائیگی اور پینشنرز کو پینشنز کی بروقت ادائیگی کے حوالے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کئے گئے تحریری معاہدے سے مکر گئے جو دراصل دھوکہ دہی اور منافقت پر مبنی عمل ہے۔ مقررین نےکہا کہ جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے واپڈا کے اہلکاروں نے غیر قانونی طور پر بجلی کے میٹرز بلاجواز نکال کر چرا کر لے گئے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحریری معاہدے کی عمل داری ہر صورت میں کرائینگے چاہیے اس کے لئے کوئی بھی قربانی دینی پڑے، مظاہرین نے اعلان کیا کہ بروز جمعہ کو بھی ایڈمن اور ایگزامیمشن بلاک احتجاجا بند رکھا جائے گا اور ایڈمن بلاک کے سامنے بڑا احتجاجی مظاہرہ ھوگا۔


