رواں سال بلوچستان میں 28خواتین کو موت کی گھاٹ اُتار دیا گیا

کو ئٹہ;عورت فانڈیشن کے اعداد وشمار کے مطابق رواں سال بلوچستان میں 28 خواتین کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں سے پانچ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیاانسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک متحرک سماجی کارکن اور بلوچستان سائیکالوجسٹ ایسوسی ایشن کے رہنما بہرام لہڑی سمجھتے ہیں کہ کرونا کی وباکے باعث خواتین پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے بہرام لہڑی کے مطابق ‘ہم نے موجودہ صورتحال میں مفت آن لائن کونسلنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور ابھی تک ہمارے پاس پچاس ایسے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں خواتین نے گھریلو تشدد کی شکایت کی ہے بہرام لہڑی کے بقول،گھریلو تشدد کی بہت سے وجوہات ہیں جن میں غربت اور تعلیم کی کمی سمیت سرفہرست مردوں کی برتری ثابت کرنے کی کوشش شامل ہے بہرام لہڑی سمجھتے ہیں کہ حالیہ واقعات جن میں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، تشویشناک ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے تعلیم یا آگاہی دینے سمیت قانون میں اہم تبدیلیوں کی بھی ضرورت ہے بہرام لہڑی کے مطابق ہمارا معاشرہ رسم و رواج کے تحت چل رہا ہے جن میں اکثر خواتین مخالف ہیں جو تشدد کی وجہ بھی بنتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں