بلوچستان کی ترقی اور زرعی بدحالی کے خاتمے کیلئے ایچ سی پی سی کوٹے کو بحال کیا جائے، متحدہ قبائل فیڈریشن
کوئٹہ( این این آئی) متحدہ قبائل فیڈ ریشن پاکستان کے صوبائی صدر عجب خان کاکڑ نے کہا ہے کہ بلو چستان کے عوام کے ساتھ دشمنی پر مبنی اقدامات بند کئے جائیں، نگراں وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ایچ سی پی سی کو ٹے کو بحال کیا جائے تاکہ بلو چستان کی زرعی بد حالی سمیت مختلف شعبہ جات تر قی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ یہ بات انہوں نے جمعرارت کو عبد الر ?ف ، فاروق خان کاکڑ، میر آصف دھوار کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان کو ہمیشہ دانستہ طورپر تر قی سے پیچھے رکھا گیا ہے جس کی واضح مثال بلو چستان ٹیکسٹائل مل اور نظر حبیب اللہ کوسٹل پاور پلانٹ کمپنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1997میں الپاسوامر یکن کمپنی نے حکومت پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کرتے ہوئے بلوچستان کی تر قی و خوشحالی کے لئے ایک پاور پلانٹ ایچ سی پی سی کا معاہد کیا جو باضابطہ طورپر ستمبر 1999کو کوئٹہ موضع سرہ غوڑ گئی میں شروع ہواجس میں مختلف کیڈر کے تقریباً 500ملازمین کام کر نے لگے۔ انہوں نے کہاکہ پاورپلانٹ کو گیس کے ذریعے چلایا جا رہا تھا جس کا باقاعدہ گیس کمپنی کے ساتھ 20سالوں کا معاہدہ کیا گیا ، معاہدے پر عمل درآمد کر تے ہوئے پاور پلانٹ سے 140میگاوٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی جس سے صوبے کے مختلف شعبہ جات بالخصو ص زرعی تر قی کی جانب گامزن ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پلانٹ 2014میں الپاسو نے شیئر ز جے ایس گروپ کو بیچ دیا تھا جس کو جے ایس گروپ نے پاور پلانٹ کو 2019تک ایچ سی پی سی کو دیا ،2019میں ایچ سی پی سی کا گیس معاہدہ ختم ہو جا تا ہے جس پر جے ایس گروپ کی کوشش تھی کہ اس ایگریمنٹ کو ریو نیو کر کے دوبارہ گیس سے پاور پلانٹ کو چلا یا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ایچ سی پی سی کو گیس کوٹہ ( 24ایم ایم سی ایف ڈی ) دیا تھا وہ کوٹہ دوبارہ نہیں دے پایا جس پر انہوں نے اعتراض کر تے ہوئے کہا تھا کہ ہم کوئٹہ کے عوام کو گیس کی فراہم نہیں کر پا رہے جس کی وجہ سے ہم مزید گیس پلانٹ کو نہیں دے سکتے جو در حقیقت ہے۔ انہوں نے نگراں وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے کہ ایچ سی پی سی کو ٹے کو بحال کیا جائے تاکہ بلو چستان کے زرعی بد حالی سمیت مختلف شعبہ جات تر قی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلو چستان کے عوام کے ساتھ دشمنی پر مبنی اقدامات کیوں کئے جا رہے ہیں ، صوبے کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے حکومت بلو چستان کو معاملات کو سنجید گی سے حل کر نا چاہیے۔


