اپوزیشن کاماسٹر اگر ٹوپی والا ہے تو حکومتی صف کاماسٹر بھی ٹوپی والا ہے،ملک سکندر
کوئٹہ؛ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندرایڈووکیٹ نے اسمبلی میں ایک وضاحتی بیان میں کہاہے کہ گزشتہ روز ان کی عدم موجودگی میں اسمبلی کے اجلاس میں ملک نعیم بازئی نے اسمبلی کے اداب کے بر خلاف اپنی نشست کی بجائے اصغرخان اچکزئی کے ساتھ والی سیٹ سے کھڑے ہوکر اپوزیشن ارکان سے کہاکہ ٹوپی والا ماسٹر کدھر ہے جس پر اخترحسین لانگو ،نصر اللہ زیرے اور ملک نصیرشاہوانی نے شدیداحتجاج یاکہ ہمارے قائد حزب اختلاف کے بارے میں اگر کچھ کہاجائے گا تو قائد ایوان کو اس سے سخت جواب ملے اپوزیشن کے اراکین نے مطالبہ کیاکہ ملک نعیم بازئی اپنے الفاظ واپس لے اور اسمبلی میں معافی مانگی جائے اس پر اصغرخان اچکزئی نے اسمبلی میں معذرت مانگ لی ،ملک نعیم بازئی نے اپنے الفاظ واپس لئے اور وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے بھی اپوزیشن اراکین سے معذرت مانگ لی،اپوزیشن لیڈر نے اسمبلی کے فلور پراپنے ساتھیوں اخترحسین لانگو،نصراللہ زیرے اور ملک نصیرشاہوانی کاشکریہ اداکیا اور ساتھ ہی اصغرخان اچکزئی ،میرظہوربلیدی کی اسمبلی میں معذرت کو سراہا ،انہوں نے کہاکہ ملک نعیم بازئی تو اپنی حیثیت کے مطابق بولتے ہیں آج وہ خود میر نشست پر آئے اور کل کی بات پر معافی مانگ لی اپوزیشن لیڈر نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن کاماسٹر اگر ٹوپی والا ہے تو حکومتی صف کاماسٹر بھی ٹوپی والا ہے اخلاقیات کا پاس رکھناچاہیے بچوں کی حرکتوں سے پرہیز کیاجائے ٹوپی اور پگڑی بلوچستان کی قابل فخر ثقافت ہے ٹوپی اور پگڑی بلوچستان کے پشتون اور بلوچ عوام کی قابل قدر اور قابل افتخار ثقافت ہے جس کو محفوظ رکھنے اور عزت دینے والے پشتون بلوچ ثقافت کے امین ہیں ۔


