بلوچ لاپتا افراد کی تعداد 8 ہزار نہیں، جبری گمشدگی اور گرفتاریوں میں فرق کرنا چاہیے، انوار الحق کاکڑ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ جبری گمشدگی اور گرفتاریوں میں فرق کرنا چاہیے، بعض اوقات قانونی کارروائی کو بھی جبری گمشدگی کا نام دیا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرن والے ادارے گرفتار کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے بعض شورش زدہ علاقوں میں جبری گمشدگیوں کی شکایات زیادہ تھیں۔ کسی بلوچ طالب علم کو جبری طور پر لاپتا نہیں کیا گیا۔ کسی الزام میں گرفتار ہو اور عدالت میں پیش ہو تو اسے جبری گمشدگی نہیں کہیں گے۔ جبری گمشدگیوں پر وفاق اور صوبائی سطح پر سیل بنے ہوئے ہیں۔ لاپتا افراد کی تعداد سے متعلق مجھے اختلاف ہے، کوئی کہتا ہے کہ 8 ہزار افراد لاپتا ہیں۔ پچھلی پارلیمان میں غلط الزام پر سزا کیلئے قانون سازی تجویز کی گئی تھی۔ اس کے لیے لوگ تیار نہیں وہ کہتے ہیں ہمیں جھوٹ بولنے کا اختار ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں