آن لائن کلاسز،مسائل کے حل میں سست روی سے کام لیا جارہا ہے،ملک بھرمیں احتجاج کرینگے،طلباء ایکشن کمیٹی

کوئٹہ:طلباء ایکشن کمیٹی نے کہاہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے طلباء وطالبات کے مسائل کے حل کے حوالے سے سست روی اختیار کی جارہی ہے طلباء وطالبات کی گرفتاری اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے اور اگلے ماہ تعلیمی اداروں میں پیپرز شروع ہونگے سہولیات نہ ہونے کے وجہ سے بلوچستان کے طلباء وطالبات کلاسز نہ لے سکیں اور نہ ہی وہ پیپرز کیلئے تیار ہیں اگر حکومت کی طرف سے جلد سے جلدمسائل کے حل کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو طلباء ایکشن کمیٹی بذریعہ پریس کانفرنسز ملک گیر احتجاج کی کال دیگی جس کے بعد تمام تر ذمہ داری بلوچستان حکومت پرعائد ہوگی ان خیالات کااظہار مزمل خان،سیدزبیر شاہ آغا،علی رضان مدثر خان،مزمل پانیزئی ودیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں طلباء وطالبات کی جانب سے آن لائن کلاسز اور سہولیات کی عدم فراہمی کیخلاف ریلی پر پولیس کی جانب سے تشدد اور پھر گرفتاری عمل میں لائی گئی پولیس کی جانب سے بلوچستان کے روایات کو پامال کرتے ہوئے طالبات سے ان کے دوپٹے کھینچے گئے جس کی بلوچستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ ایسے میں جب انٹر نیٹ اور دیگر سہولیات نہ ہو تو بلوچستان کے طلباء وطالبات آن لائن کلاسز کس طرح لے سکتے ہیں ایچ ای سی کی جانب سے بغیر سوچے سمجھے منصوبے ملک میں آن لائن کلاسز شروع کروائے گئے جو ناقابل عمل ہے یہ تعلیم دشمن فیصلہ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے مذاکرات میں جو وعدے کئے گئے اس پر عملدرآمد نہیں ہورہا جس کی وجہ سے بلوچستان کے طلباء وطالبات کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی اگر فوری طور پر مطالبات کے حل کیلئے اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے طلباء ا یکشن کمیٹی ملک بھر میں بذریعہ پریس کانفرنسز احتجاج کی کال دیگی جس کے بعد تمام تر صورتحال کی ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں