شیخ رشید تاریخ سے نابلد،ہم اپنی تاریخ بھول گئے تو آپ لال حویلی اور راجہ بازارکاراستہ بھول جائینگے، آغاحسن بلوچ
کوئٹہ;بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ورکن قومی اسمبلی آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے وفاقی وزیر شیخ رشید کی سرداراختر جان مینگل اور بلوچ قبیلے مینگل کیخلاف نازیبا الفاظ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصوف تاریخ سے نابلد ہے سردار عطاء اللہ مینگل کی خاندان بارے فخر افغان باچا خان،ولی خان،بلوچستان کے گاندھی خان شہید،شہید ذوالفقار علی بھٹو یا مفتی محمود صاحب سے پوچھا جائے بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ اجتماعی معاملات پر بات کی لیکن کبھی وزارتوں کی بھیک نہیں مانگی ہماری تاریخ تہذیب اورتمدن ہے اگر ہم اپنے تاریخ کو بھول جائیں تو موصوف لال حویلی اور راجہ بازار کا راستہ بھول جائینگے ان خیالات کااظہارانہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا آغا حسن بلوچ نے کہا کہ شیخ رشید کی اختر جان مینگل اور بلوچ قبیلے مینگل کیخلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ تاریخ سے نابلد ہیں بر صغیر میں جب انگریز آئیں تو نورا مینگل ہی تھے جنہوں نے انگریزوں کوشکست دی سردار عطاء اللہ مینگل کے خاندان کے بارے میں فخر افغان باچا خان،ولی خان یا بلوچستان کے گاندھی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی سے پوچھئے یا تو شہید ذوالفقار علی بھٹو سے پوچھئے کہ سردار عطاء اللہ مینگل نے جس جواں مردی اور ثابت قدمی کے ساتھ مختلف ادوار میں آمریت اور سول ڈکٹیٹرز کا مقابلہ کیا ہے مفتی محمود صاحب بہتر جانتے ہیں کہ کئی سال پنجاب کے جیلوں میں گزار نے کے باوجود سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوئے انہوں نے کہا کہ شیخ رشید جیسے لوگوں کے بارے میں بات کر کے بھی میں اپنا توہین سمجھتاہوں انہوں نے ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے سردار ا ختر جان مینگل اور بلوچ قبیلے کیخلاف ایسے نازیبا الفاظ کے استعمال کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے انہوں نے کہا کہ شیخ رشید مختلف ادوار میں نواز شریف،شہباز شریف،عمران خان اور مشرف کے دور میں سجدہ ریز ہوکر وزارت کی بھیک مانگتے تھے بلوچستان نیشنل پارٹی نے اگر پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا تو کبھی وزارتیں نہیں مانگے جس کا پرویز خٹک صاحب گواہ ہے بی این پی کو وزارتوں کی پیشکش کی گئی مگر ہم نے 6نکات پر بات کی اور اجتماعی معاملات کو ترجیح دی ہماری ایک تاریخ تہذیب وتمدن ہے اگر ہم اپنے تاریخ کو بھول گئے تو آپ لال حویلی اور راجہ بازار کا راستہ بھول جائینگے انہوں نے کہا کہ بلاول کی بات پرکہ غلاظت پر تو بات کی جاسکتی ہے مگر شیخ رشید پر نہیں۔


