پشتون بلوچ عوام نے فیصلہ کرلیا تو بلوچستان میں کوئی بھی حکومت نہیں کر پائے گا، دہشتگردی واقعات پر صوبائی حکومت مستعفی ہو، اپنے بچوں کو گولی مارو گے تو اس کا نتیجہ بربادی ہے، سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے تحریک کا آغاز کررہے ہیں، اپوزیشن قیادت
اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قیادت کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ زیارت اور بلوچستان کے مسئلے سے تحریک کا آغاز کررہے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام قیادت کوئٹہ جاکر محتاط انداز میں حکمرانوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ سانحہ زیارت پر ذمہ دار استعفیٰ دیں یا فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ پشتون بلوچ عوام نے فیصلہ کرلیا تو بلوچستان میں کوئی بھی حکومت نہیں کر پائے گا۔ کشمیر اور بلوچستان میں اپنے بچوں کو گولی مارو گے تو اس کا نتیجہ بربادی ہے۔ بلوچستان کے حکمرانوں نے بات سمجھنے کی کوشش نہیں کی تو عوامی طاقت سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں گے، نوجوانوں کو مزید مت اکساﺅ۔ اس موقع پر سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفی نواز کھوکھر، ساجد ترین ایڈووکیٹ، لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ، سید زین شاہ، ملک نصیر شاہوانی، داﺅد شاہ کاکڑ، محمد زبیر، اخونزادہ حسین، احمد نواز بلوچ اور دیگر موجود۔ پریس کانفرنس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 4 مطالبات رکھتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت مستعفی ہو، دہشتگردی، بلوچستان، آزاد کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، بریفنگ دی جائے، آزاد کشمیر میں انتخابات کو ملتوی کیا جائے، مذاکرات کیے جائیں، عمران خان، ماہ رنگ، علی وزیر سمیت تمام سیاسی اسیران رہا کیے جائیں۔


