پنجگور میں تعینات آر اوز کی وفاداریاں نیشنل پارٹی سے ہیں، انتخابات آزاد ماحول میں ہونے چاہییں، اسد بلوچ
پنجگور (نمائندہ خصوصی) بی این پی عوامی کے مرکزی صدر وسابق صوبائی وزیر میر اسداللہ بلوچ نے کہا ہے کہ پنجگور کے دونوں دوحلقوں پی بی 29 ون اور پی بی 30 ٹو میں تحصیلدار آغا ظفر حسین تحصیلدار عارف حلیم اور ڈپٹی ڈی ای او ایجوکیشن محمد علی کی بطور اے آر او تعینانی پر بی این پی عوامی کو اعتراض اور تحفظات ہیں یہ تینوں افسران نیشنل پارٹی کے اہم رکن اور وفادار ہیں ان کی موجودگی میں پنجگور میں صاف شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے ان کی وفاداریاں نیشنل پارٹی کے ساتھ ہیں الیکشن کمیشن پنجگور میں صاف وشفاف انتخابات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے اور ایسے افسران جو براہ راست سیاست میں ملوث ہیں، انہیں انتخابی عمل سے دور رکھیں، اس طرح کے جانبدار افسران کی وجہ سے پورے کا پورا انتخابی عمل متنازعہ رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار میر اسد اللہ بلوچ نے پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری نور احمد بلوچ، میئر میونسپل کارپوریشن پنجگور شکیل احمد قمبرانی، ڈپٹی میئر عبدالباقی، ضلعی آرگنائزر رحمدل بلوچ، ڈپٹی آرگنائزر جلیل احمد سیلانی اور دیگر سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ اپنی رہائش گاہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بی این پی عوامی جمہوریت اور جمہوری اداروں کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنے والی جماعت ہے، شروع سے ہماری کوشش اور خواہش رہی ہے کہ عوام ایک آزادانہ ماحول میں اپنے ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرے اور یہ انکا بنیادی اور جمہوری حق ہے انہوں نے کہا کہ پنجگور کے دونوں حلقوں پی بی 29 ون اور پی بی 30 ٹو میں جن افسران کو بطور اے آر او تعینات کیاگیا ہے انکی وفادرایاں ایک مخصوص سیاسی جماعت نیشنل پارٹی سے ہیں تحصیلدار آغا ظفر حسین اور ڈپٹی ڈی او ایجوکیشن محمد علی نے حال ہی میں باقاعدہ نیشنل پارٹی کو جوائن کیا ہے اسی طرح تحصیلدار عارف حلیم کی بھی وفاداریاں نیشنل پارٹی کے ساتھ ہیں ان تینوں کی موجودگی میں شفاف انتخابات کا ہونا ناممکن نظر آرہا ہے کیونکہ یہ برملا طور پر بی این پی عوامی کے خلاف انتخابی عمل کا حصہ ہیں اگر ان کو اس طرح کی ذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں تو اس سے پنجگور میں پورے کا پورا انتخابی عمل متنازعہ رہے گا اور یہ شفاف انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکا سکتے ہیں لہذا بی این پی عوامی اس پریس کانفرنس کے توسط سے الیکشن کمیشن اسلام آباد اور صوبائی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان تینوں آفسران کو اے آر اوز کی ذمہ داریوں سے فوری طور پر ہٹائیں تاکہ شفاف اور منصفانہ الیکشن کا انعقاد ممکن ہوسکے اور عوام کو یہ باور ہوجائے کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنی حق رائے دہی استعمال کرکے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرسکیں گے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ اگر ہمارے جائز مطالبے پر ان تینوں افسران کو دی گئی ذمہ داریوں سے نہیں ہٹایا گیا، تو بی این پی عوامی جسے پنجگور کے 80 فیصد عوام کی تائید وحمایت حاصل ہے ان باایسڈ افسران جن کی بطور اے آر اوز تعیناتیاں کی گئی ہیں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرے گا، میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ بی این پی عوامی پرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاوں کرے گا انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بی این پی عوامی کے دروازے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے کھلے ہیں انتخابی اتحاد کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں نے رابطہ بھی کیا ہے تاہم ابھی تک کسی سے انتخابی اتحاد کرنے یا نہ کرنے پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے اگے جو بھی لائحہ عمل ہوگا وہ پارٹی میں مشاورت کے بعد طے ہوگا کہ کسی سے اتحاد کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے بی این پی عوامی ایک جمہوری پارٹی ہونے کے ناطے تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کرے گی۔


