اگلے پانچ سال گرم ترین ثابت ہوں گے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم برائے موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ آئندہ پانچ سال گرم ترین ثابت ہوں گے جب کہ اس دوران عالمی درجۂ حرارت میں ہر سال کم از کم ایک ڈگری سیلیس اضافے کا امکان ہے۔
عالمی تنظیم کے مطابق شمالی بحراوقیانوس کے شمالی علاقے کو عقب سے چلنے والی تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس کے نتیجے میں اگلے پانچ برسوں کے دوران مغربی یورپ میں مزید طوفان آئیں گے۔
تنظیم کی جانب سے کی گئی پیش گوئی کے مطابق طول البلد خطوں میں حالیہ دنوں کے مقابلے میں زیادہ بارشوں کی توقع ہے۔
تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ سال 2020 میں جنوبی امریکہ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے متعدد حصے زیادہ تر خشک موسم کی لپیٹ میں رہیں گے۔
عالمی تنظیم برائے موسمیات نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے لیے کی گئی سالانہ موسمی پیش گوئیوں کے مطابق اس بات کے 20 فی صد امکانات ہیں کہ عالمی درجۂ حرارت میں ہر سال کم از کم ایک اعشاریہ پانچ سیلسیس تک کا اضافہ ہو گا۔
خیال رہے کہ ‘ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن’ اقوامِ متحدہ کی ایک ایجنسی ہے جس کے رکن ممالک کی تعداد 193 ہے۔ تنظیم کا دفتر جینیوا میں قائم ہے۔
عالمی تنظیم برائے موسمیات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران درجۂ حرارت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور ریکارڈ کے لحاظ سے گزشتہ پانچ برس گرم ترین ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن 2020 سے 2024 تک کی پانچ سالہ مدت میں درجۂ حرارت نئی بلندیوں تک جائے گا۔
تنظیم کے سیکریٹری جنرل پیٹیری تالاس کا کہنا ہے کہ چوں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں دیر تک موجود رہتی ہے، اس لیے رواں سال کرونا وائرس کے سبب معاشی اور صنعتی سرگرمیاں بند ہونے کے باوجود عالمی درجۂ حرارت پر اس کے مثبت اثرات پڑنے کے امکانات نہیں ہیں۔
تنظیم کے مطابق زمین کا اوسط درجۂ حرارت ‘پری انڈسٹریل’ دور سے ایک سیلسیس بڑھ چکا ہے اور آئندہ پانچ برسوں کے دوران یہ ایک اعشاریہ پانچ سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں