شہید سکندر زہری یونیورسٹی میں کلاسز کا عدم اجرائ، طلباءتعلیم چھوڑنے پر مجبور، نوٹس جاری کریں،این پی
خضدار(بیورورپورٹ) نیشنل پارٹی تحصیل خضدار سٹی کے صدر نادر بلوچ ودیگر نے کہا ہے کہ شہید سکندر زہری یونیورسٹی کی کلاسز کا اجراءنہ کرنا بدنیتی اور طلباءسے تعلیم دشمنی ہے ۔بلوچ تعلیم دشمن عناصربلوچ قوم کو تعلیم سے دور رکھ کر انہیں پسماندہ رکھنے ان کے حقوق سلب کرنے و قومی وسائل کی لوٹ مار کو جاری رکھنے جیسی سازشوں میں مصروف عمل ہے جو کسی صوت ناقابل قبول عمل ہے۔ اکیسویں صدی سائینس ٹیکنالوجی کا دور ہے دنیا تعلیم کے ذریعے ترقی کے منازل تہ کرکے چاند تک پہنچ چکی ہے وہی بلوچ قوم آج بھی تعلیم جیسی زیور سے محروم ہے ، ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی تحصیل خضدار کے صدر نادر بلوچ نائب صدر شیراحمد قمبرانی، جنرل سیکرٹری کریم بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری سعید مردوئی رابطہ سیکرٹری رئیس احمد پریس سیکرٹری ریاض شاہوانی فنانس سیکرٹری یوسف مینگل و دیگر نے بیان میں کیا۔بیان میں مزید کہا کہ شہید سکندر یونیورسٹی خضدار کی منظوری کو دس سال گزر چکے ہیں حتیٰ کہ یونیورسٹی کی عمارت مکمل ہے لیکن حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے تاحال کلاسس کو شروع نہیں کیا جارہا ہے ۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی دور حکومت میں پورے بلوچستان میں یونیورسٹیز کی منظوری ہوئی تمام اداروں کے لیے فنڈز یکساں جاری کئے گئے جن میں یونیورسٹی آف تربت یونیورسٹی آف لورالائی اور شہید سکندر یونیورسٹی خضدار شامل تھے تربت اور لورالائی کی یونیورسٹی کے کلاسس کو شروع ہوئیں آٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا ہے ان یونیورسٹیز سے سینکڑوں طلباءڈگری لیکر فارغ و تحصیل ہے۔ ہزاروں طلباءزیر تعلیم ہے لیکن شہید سکندر یونیورسٹی خضدار کے کلاسز تاحال شروع نہ ہوسکیں رہنماوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کلاسز کا اجراءنہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں طلباءکوئٹہ یا دیگر شہروں کو جاکر تعلیم جاری رکھنے کی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔حالانکہ یونیورسٹی کے عمارت کی تعمیر تقریبا مکمل ہوچکی ہے ڈپارٹمنٹس، ہاسٹلز سمیت دیگر عمارتیں کئی عرصوں سے تیار ہے ان کلاسسوں میں طلبا کو ہونا چاہیے تھا لیکن حکومتی عدم دلچسپی کا شکار یونیورسٹی اب موالیوں نشئیوں کی آماچ گاہ بننے جاری ہے رہنماوں نے وزیراعلی بلوچستان گورنر بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جلداز جلد شہید سکندر یونیورسٹی کے کلاسز کے اجراءکا نوٹیفکیشن جاری کرکے عوام دوستی کا ثبوت دیں تاکہ بلوچ قوم کی نئی نسل اس عظیم ادارے سے مستفید ہوسکیں۔بصورت دیگر نیشنل پارٹی دیگر سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی و تمام مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے تعلم دوستوں سے رابطہ کرکے یونیورسٹی کے بحالی کے لیے تحریک چلائی جائیں گی۔


