این ایف سی ایوارڈ، بلوچستان کو کم حصہ مل رہاہے، پنجاب سے بھی ز یادہ حصہ دیا جائے، بیرسٹر علی سیف

سینٹ میں سینیٹر بیرسٹر علی سیف نے قومی مالیاتی کمیشن میں ترمیمی کے بل کی تحریک ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مالیاتی کمیشن کے تحت وفاق کے اخراجات بڑھنے سے صوبوں کے بجٹ میں کٹوتی ہوتی ہے،اس میں ترمیم کی جائے کیونکہ صوبوں کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی ہے، بلوچستان کو کم حصہ مل رہاہے بلوچستان کو پنجاب سے زیادہ حصہ دیا جائے،اس معاملے پر سینٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی میں بحث کرائی جائے۔ سینیٹر شیری رحمن نے بیرسٹر سیف کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ہے حکومتی بنچوں سے پارلیمان پر حملہ کیا جا رہا ہے،پاکستان میں پارلیمان انڈر اٹیک ہے، این ایف سی ایوارڈ کی بات کی جا رہی یہ تو عمرانی معاہدہ ہے عوام کے ساتھ ہے،عوام کے حقوق اور جمہوریت کے دل پر شب خون مارا جا رہا ہے، زرا سی بات ہو تو صدارتی نظام پر بات کرنا شروع کی جاتی ہے،محصولات کا ٹارگٹ وفاق پورا نہیں کر پا رہا ہے،پانچ ایف بی آر چیف تبدیل کئے گئے ہیں،وفاق پیچھے گرتا جا رہا ہے،سندھ اپنے ریونیو ٹارگٹ سے 8 فیصد آگے ہے، اس دفعہ تو حکومت پر آئی ایم بھی ہنس پڑا ہے، اس وقت ملک کو معاشی طور پر صوبے چلا رہے ہیں، وفاق آپ کی نا اہلیت کی وجہ سے گرتا جا رہا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ حکومت میں کیا گیا،اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے خدشات دور ہو ں گے،اب حکومت بینچوں سے معاملہ سامنے آیا ہے،اٹھارہویں ترمیم پر شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے،پارلیمان اس وقت پاکستان میں انڈر اٹیک ہے،افسوس سے کہا جا سکتاہے حکومتوں بینچوں سے پارلیمان پر حملہ کیا جا رہا ہے،اٹھارہویں ترمیم اور آئین صوبوں کے ساتھ وفاق کا عمرانی معاہدہ ہے،سندھ تو محصولات کے ہدف میں آٹھ فیصد آگے ہے،وفاق کام نہیں کر رہا اٹھارہ ماہ میں پانچ ایف بی آر چیئرمین بدلے گئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی ری اسٹیکچرنگ کی ضرورت ہے،ایف بی آر کی نا اہلی سے سالانہ کھربوں روپے خرچ ہوتے ہیں،حکومت ہرروز بیس ارب کا اضافی قرض لے رہی ہے،صوبے ہی تو ملک چلا رہے ہیں تنخواہ دے رہے ہیں،اب تو آئی ایم ایف بھی کہہ رہا ہے ان سے بجٹ بیلنس نہیں ہو رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں