چار جماعتی اتحاد کے ساتھی بتائے بغیر دوسرے الائنس میں چلے گئے، جان محمد بلیدی
کراچی (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی اسمبلیوں میں اپوزیشن جماعت کے طور پرکردار ادا کرے گی، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ سے روابط کو فروغ دیا جائے گا۔ چار جماعتی اتحاد کے ساتھی بتائے بغیر دوسرے اتحاد میں چلے گئے، بلوچستان کی دیگر قوم پرست قوتوں کو ساتھ ملاکر مضبوط سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دیں گے۔ سندھ و پنجاب میں پارٹی کو منظم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر جان محمد بلیدی نے اپنے اعزاز میں نیشنل پارٹی سندھ کی جانب سے دی گئی عید پارٹی میں کیا۔ نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ملک ایوب، اسد بٹ، سید سربازی صدر پریس کلب کراچی، رمضان میمن، مجید ساجدی، ایوب قریشی، پروفیسر توصیف احمد، ذوالفقار مکی، غلام نبی، نگار بی بی، عبدالحمید ایڈووکیٹ، حبیب بلوچ، رﺅف بلوچ، ماسٹر اسلم، سنیل کمار بزنجو، سید تنویر شاہ، کے الیکٹرک یونین کے رہنما میر شیراز اقبال، سعید بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ عید ملن پارٹی میں نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ملک ایوب مہمان خصوصی طور پر شرکت کیا تھا۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان بلیدی نے کھاکہ ہماری چار جماعتی اتحاد کے ساتھیوں نے نئے اتحاد میں جانے کا ہم سے مشورہ نہیں کیا اور ہمیں اطلاع کئے بغیر سنی اتحاد کونسل کے ساتھ گئے۔ انھوں نے کھاکہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سے تعلق پی ڈی ایم سے پہلے سے رہا ہے۔ لیکن اس وقت ان کے ساتھ کسی اتحاد میں نہیں ہیں سینٹ و صدارتی انتخاب میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے ساتھ باہمی تعاون رہا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انھوں نے کھاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے استحکام کے حوالے سے ملک کی جمہوری تحریک و پارٹیوں کے ساتھ تعاون رہے گا۔ انھوں نے کہاکہ بلوچستان و ملک بھر میں قوم پرست سیاسی قیادت کو ایک ساتھ کرنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے بہت جلد تمام سیاسی پارٹیوں کے قیادت سے مشاورت کے بعد ان کا اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انھوں نے 2024 کے انتخابات میں عوام نے نیشنل پارٹی کو بھرپور مینڈیٹ دیا لیکن عوامی مینڈیٹ پر الیکشن کمیشن اور انتظامیہ نے ڈاکہ ڈالا۔ انھوں نے کہاکہ عوام کا اور سیاسی جماعتوں کا الیکشن کمیشن اور انتظامیہ سے اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ انھوں نے کھاکہ ملک میں انتخابات کے حوالے سے بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ الیکشن کو چوری اور بکنے سے بچایا جاسکے ملک کے جوڈیشل اداروں سے اب کچھ امید باقی ہے ہمیں امید ہے کہ وہا م سے ہمیں انصاف ملے گا اور عوام کے مینڈیٹ کو احترام مل جائے گا۔


