تحریک تحفظ آئین اتحاد کسی جج یا جرنیل کیخلاف نہیں بنایا، چمن دھرنا کے مطالبات ماننا پڑیں گے، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ (یو این اے) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چمن کے غیور عوام نے اپنے تمام مہمانوں کا پرلت میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت اور پرتپاک استقبال کرکے مہمان نوازی کا فرض ادا کیا ۔ منظم عوام کا اتحاد واتفاق دشمن کی شکست ہوگی چاہے ، کسی کے پسند یا ناپسند کے برخلاف چمن پرلت کے مطالبات ماننے پڑینگے کیونکہ چمن کے عوام اور اس جاری پرلت کے جمہوری ، وطن اور ملک دوست مطالبات کا اسلام ، پاکستان مخالفت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ انسایت کے مخالف ہیں بلکہ آج دنیا کے ممالک کے درمیان پاسپورٹ کا نظام ختم ہونے کو جارہا ہے اور یہاں تک کہ یورپی ممالک نے اسے ختم کردیا ہے ۔اور پرلت کے مطالبہ یہ ہے کہ ڈیورنڈ خط کے آر پار اپنی زرعی زمینوں ، مساجد ، گاﺅں ، قبرستان اور دیگر انسانی معاشرتی ضرورتوں کیلئے دن میں کئی بار پاسپورٹ پر آنا جانا ناممکن ہے لہذٰا پاسپورٹ کی شرط کو آر پار قبائل کیلئے ختم کرنا حکومت کی ذمہ داریوںمیں شامل ہیں ۔ آج بھی ڈیورنڈ خط پر اچکزئی ، نورزئی اور دیگر بہت سے قبائل کے پاس ہزاروں کی تعداد میں پاسپورٹ پڑے ہیں لیکن وہ اپنی زرعی زمینوں ،اقرباءکے ضرورتوں پر جانے کیلئے پاسپورٹ کا انتظام کا نظام قابل قبول نہیں، انہوں نے ہفتے کے روز چمن پرلت کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ اتحاد کے قومی اسمبلی اور سینٹ کے رہنماءاراکین نے آپ کے سامنے اعلان کیا ہے کہ وہ چمن پرلت کے مسائل قومی اسمبلی اور ایوان بالا میں ضرور اٹھائیں گے ۔ پاکستان کے عوام ملک کی مسلط حکمرانوں کے کرتوتوں کے نتیجے میں انقلاب کے دہانے پہنچ چکا ہے اور ہم سب نے اس جمہوری انقلاب کی تیاری کرنی ہوگی ۔ عوام کا تعلق چاہے جس بھی پارٹی سے ہو سب نے اس بات سے باخبر رہنا ہوگا ہے کہ ہمیں پشتونخوا وطن میں اللہ تعالیٰ نے جتنی نعمتیں دی ہیں اس پر قبضہ جمانے کیلئے دنیا کی طاقتور قوتیں یہاں جنگ مسلط کرنا چاہتی ہے ، یہ لوگ ایک مرتبہ پھر ہمارے اس خطہ کودنیا کے مست سانڈوں کے لڑائی کے مرکز میں تبدیل کرناچاہتے ہیں ۔ ہم کسی جرنیل ، کسی شہباز ،کسی تلوار زن کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ یہاں جنگ لائیں اور ہم پر جنگ مسلط کرے کیونکہ ہم افغانستان ،ہندوستان ، ایران سمیت کسی سے بھی جنگ نہیں چاہتے ، ہم جیو اورجینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر گزارہ کرنے کی بات کرتے ہیں ، ہم نے افغانستان کے سالمیت وخودمختاری کا احترام کرنی ہوگی اور افغانستان نے پاکستان کے سالمیت وخودمختیاری کا احترام کرنی ہوگی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی جمہوری سو سے زائد کارکن گرفتار کیئے ہیں ، نوجوانوں اور بوڑھوں سے یہ لوگ کپڑے نکالتے ہیں لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتے ہیں یہ غیر سیاسی ، غیر جمہوری ، غیر انسانی رویہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ، ہم ملک کے پولیس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کے ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے نہیں ہیں اور لوگوں کو بے عزت کرو گے خود عزت سے رہ سکو گے ؟۔ فراڈ ، دھوکہ دہی ،زر اور زور کے نام نہاد الیکشن میں پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹوں کو واپس لینا اور اسے لوگوں کے حوالے کرنا جو دنیا میں سماج دشمن گردانے جاتے ہیں ان کے حوالے کرنا ملک ،عوام اور سیاست وجمہوریت دشمنی کے سوا کچھ نہیں ۔ ملک کے اندر جس قوم کی سرزمین پر قدرتی معدنیات ،وسائل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیئے ہیں ان پر پہلا حق ان کے بچوں کا ہوگا اس لیئے ہم نکلیں ہیں ۔ ہم نے جنگ ،دشمنی نہیں کرنی لیکن جرنیلوں نے مہربانی کرکے توبہ کرنا ہوگی اور پاکستان کے عوام سے یہ معافی مانگنی ہوگی کہ ہم آئندہ اپنے آئینی حلف کے برخلاف سیاست میں مداخلت نہیں کرینگے ۔ بلوچ عوام کے ساحل ووسائل پر قرآن کریم ، اقوام متحدہ اور تمام انسانی قوانین کے تحت پہلا حق ان کے بچوں کا ہے اور دیگر اقوام کی سرزمینوں میں بھی ان کے قدرتی معدنی وسائل ، آبی ذخائر ، بجلی وگیس پر قبضہ کسی صورت میں قبول نہیں ۔ اگر یہ لوگ توبہ نہیں نکالتے تو پھر عوام کو مجبور ہوکر زبردستی انہیں اپنی چھاونیوں میں دھکیلنا ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم نے آئین پاکستان کے تحفظ کیلئے جو اتحاد بنایا ہے یہ کسی جرنیل یا جج کے خلاف نہیں بنایا ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک کی طاقت کا سرچشمہ عوام کے ووٹوں سے منتخب حقیقی نمائندگان کا پارلیمنٹ ہو، عوام کی پارلیمنٹ داخلہ وخارجہ پالیسیاں بنائیگی اور عوامی پارلیمنٹ ہی بلوچوں ، پشتونوں ، سندھیوں ، پنجابی عوام کو یہ آئینی گارنٹی دیگی کہ ان کے وطنوں کے وسائل پر ان کے بچوں کا واک واختیار ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں پولیس والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کو مانو اپنے بچوں کے کپڑے مت نکالوں ان کی بے حرمتی ، چادر وچار دیواری کی تقدس کی پائمالی نہ کرو ، اپنے بچوں ،ماﺅں ، بہنوں کی بے حرمتی مت کروایسا نہ ہو کل یہی سب کچھ تمہارے ساتھ ہوں ۔ ان خیالات کا اظہارگزشتہ روز پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے چمن احتجاجی دھرنے /پرلت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس سے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایو ب خان ترین ، ایم این اے شیر افضل مروت ، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر جعفری ، بی این پی کے رہنماءملک نصیر احمد شاہوانی ،جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عطاءالرحمن اور پرلت کے رہنماﺅں ، تاجروں ودیگر مقررین نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر اتحادی جماعتوں کے دیگر مرکزی وصوبائی قائدین بھی چمن پرلت جلسے میں موجود تھے ۔ اگر چہ پرلت میں تقاریر کے دوران شدید مٹی کا طوفان ، بارش ، ژالہ باری شروع رہی لیکن تمام عوام اس کے باوجود منظم انداز میں بیٹھے رہے اور سٹیج سے مقررین کے تقاریر سنتے رہے ۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین ،مہمانوں کے اعزاز میں پارٹی رہنماءضلع چمن کے میئر حاجی حبیب اللہ اچکزئی اور پارٹی رکن ممتاز تاجر حاجی نصیب اللہ اچکزئی نے پرتکلف عشائیہ دیا اور رات گئے تمام مہمان چمن سے کوئٹہ کی طرف روانہ ہوئے۔


