نوشکی، ایس بی کے ٹیسٹ کا رزلٹ روکنے کیخلاف ریلی، وزیر اعلیٰ عدالتی فیصلے کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، امیدوار
نوشکی (نامہ نگار)نوشکی میں ایس بی کے پاس امیدواروں کی جانب سے اساتذہ کے پوسٹوں پر ٹیسٹ کے نتائج بلاوجہ روکنے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی صوبائی حکومت کی جانب سے خلاف ورزی کرنے کے خلاف شہر میں ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکا نے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ریلی نوشکی پریس کلب پہنچ کر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کیا اسموقع پرمظاہرے سے ایس بی کے ٹیسٹ پاس کرنے والے امیدواروں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں اساتذہ کی پوسٹوں پر تعیناتی کے لیے صوبائی حکومت نے ایس بی کے کے زریعے ٹیسٹ کا انعقاد کروایا حس میں بلوچستان بھر سے ہزاروں امیدواروں حصہ لیا اور باقاعدہ ٹیسٹ فیس جمع کیے بلوچستان کے بےروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں سے کروڑوں کے ٹیسٹ فیس ایس بی کے کے اکاونٹ میں جمع کیے گئے جس کے بعد ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا ۔ ٹیسٹ کے بعد ایک غیر متعلقہ شخص جس کو بلوچستان اور بلوچستان کے بچوں کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں نے بغیر کسی ثبوت کے کیس دائر کرکے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ۔ ایس بی کے پاس کنڈیڈیٹس نے صبر کا مظاہرہ کرکے قانونی طور پر اپنی دفاع کا راستہ اختیار کی اور بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرکے سپریم کورٹ میں کیس کرنے والے اشخاص کی جانب سے پوسٹوں کی خرید و فروخت اور میرٹ کی پامالی سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہ کرسکیں سپریم کورٹ نے ایس بی کے ٹیسٹ سے متعلق الزامات کو مفروضوں پر مبنی قرار دیکر ریجیکٹ کرکے ایس پی کے اور محکمہ تعلیم بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ رزلٹس کا اعلان کریں مگر بدقسمتی سے وزیر اعلیٰ بلوچستان سپریم کورٹ کے فیصلے سے بغاوت کرکے ایس بی کے ٹیسٹ پاس امیدواروں کی رزلٹس اور تعیناتیوں کو پس پشت ڈال کر آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایس بی کے پاس امیدوارو اپنی حق کے لیے ہر آئینی اور جمہوری آپشنز استعمال کرینگے ۔ صوبائی حکومت نے مزید رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ درج کرینگے اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے سامنے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا بھی دینگے۔


