آدم سومار کی گمشدگی کو 2ہفتے گزر گئے لیکن وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے،اہلخانہ
تربت(انتخاب نیوز)بارڈر کاروبار سے وابستہ مزدور کی گمشدگی پر اہل خانہ نے پریس کانفرنس کی جس میں 11 مئی کو تربت کے گاو¿ں جوسک میں ایرانی بارڈر پر تیل کے کاروبار سے وابستہ 20 سالہ آدم ولد سومار کی والدہ اور ان کے بڑے بھائی نے خاندان کے دیگر مرد و خواتین کے ہمراہ گمشدگی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ آدم سومار کی والدہ نے کہا کہ قریب دو ہفتے ان کی گمشدگی کو پورے ہورہے ہیں لیکن ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ انہیں کس نے اور کیوں اغوا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھرے بازار میں ایک شخص کو دن دھاڑے اغوا کرکے لاپتہ کرنا اور پھر مکمل خاموشی نہایت تکلیف دہ ہے۔ ہم مسلسل 9 دنوں سے ایک قیامت خیز کرب سے گزرر رہے ہیں جس کا ادراک ہمیں ہی کو ہے۔اس دوران لاپتہ شخص کے رشتہ دار سیاسی جماعت کے کارکن منظور احمد رئیس نے بتایا کہ کیچ میں چند ہفتوں سے گمشدگی کا ایک تازہ سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس میں روز تیزی آرہی ہے۔بی این پی کے رہنما منظور احمد رئیس نے کہا کہ آدم سومار جیسے عام نوجوانوں کا اغوا کیوں کیا جارہا ہے یہ ابھی تک سوالیہ نشان ہے، ضلع کیچ کی انتظامیہ انسانی حقوق کی پامالی کے اس اہم مسلے پر خود کو لاتعلق رکھ چکی ہے جو تشویش کا باعث ہے۔


