قوم پرست جماعتیں بارڈر کے معاملے پرسیاسی ساکھ بچانے کی کوشش کررہی ہیں،مولانا واسع
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہنگائی کا طوفان برپا کر کے عوام کے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے، آٹے، چینی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ سے غریب اور محنت کش طبقہ 2وقت کی روٹی کے لئے ترس رہا ہے، سابقہ حکومتوں پر تنقید کرنے والے برسراقتدار حکمران خود دوہری شہریت کے مالک ہیں، کیا ریاست مدینہ کے دعویدار اپنے وزراء کے خلاف کارروائی کریں گے، وزیراعظم نے جھوٹ کی بنیاد پر سیاست شروع کی اور جھوٹ پر ہی سیاست ختم کریں گے، جمعیت علماء اسلام موجودہ حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرح بلوچستان میں قائم صوبائی حکومت بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ایک طرف بلوچستان وفاق کی جانب سے احساس محرومیوں کا شکار رہا ہے تو دوسری طرف صوبے کے حکمرا ن بھی یہاں کے عوام پر روزگار بند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 50دن گزر گئے مگر صوبائی حکومت نے چمن بارڈر سے متعلق کچھ نہیں کیا۔ صوبائی حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت وفاق میں حکومت کی اتحادی ہے مگر بارڈر کے حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں کی جاسکی ہے۔ بعض قوم پرست جماعتیں بھی بارڈر کے معاملے پرسیاست کرکے سیاسی ساکھ بچانے کی کوشش کررہی ہیں مگر عوام باشعور ہے وہ ان کی سیاست میں نہیں آئیں گے انہوں نے کہا کہ 50دن سے چمن بارڈر کی بندش کے خلاف احتجاج جاری ہے مگر حکومت میں شامل قوم پرست جماعت نے عوام کو تسلی دینے کے لئے برائے نام کمیٹی بنا کر ان سے مذاکرات کا واویلا کیا مگر ایوان میں چمن با رڈر سے متعلق تحریک التوا ء پرسب کچھ واضح ہوگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ جماعت صرف جمعیت علماء اسلام ہے جنہوں نے ہمیشہ بلوچستان کے عوام کی ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت میں شامل وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی کی دوہری شہریت کا انکشاف ہوا ہے کیا ریاست مدینہ کے دعویدار ان کے خلاف کارروائی کریں گے یا چینی کمیشن کی طرف اس مسئلہ کو بھی دبانے کی کوشش کی جائے گی۔


