صرف 20فیصد بجٹ سے ریلوے کے آپریشن چلتے ہیں، پنشن سب سے بڑا چیلنج ہے، وزیر قانون

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ 68فیصد بجٹ صرف ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں لگ جاتا ہے۔ ریلوے کے باقی 20 فیصد بجٹ سے ریلوے کا آپریشن چلتا ہے، پنشن ریلوے کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، کرپشن پر کارروائی کی وجہ سے گزشتہ سال ریلوے آپریشنز سے کئی برسوں سے زیادہ آمدنی ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ریلوے نے اپنی آمدن میں اضافہ کیا ہے، خواجہ سعد رفیق نے ریلوے میں بہت محنت کی، گزشتہ سالوں کی نصبت 2023- 2022 میں ریلوے آمدن میں 251 فیصد اضافہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں رائل پام سمیت ریلوے کی قیمتی اراضی کی غلط ڈیل کی گئی، ہم کہتے ہیں کہ حکومتیں کاروبار نہ کریں، برٹش ریلویز نے اپنا 90 فیصد کاروبار پرائیویٹائز کیا ہوا ہے، ریلوے کے اخراجات میں کمی پر کام ہورہا ہے، ریلوے قومی ادارہ ہے، ٹرین غریب کی سواری ہے ہم سب نے اسے بہتر بنانا ہے۔ایک سوال کے جواب وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین تنخواہ نہیں لے رہے، وزرا بجلی اور گیس کے بلز بھی اپنی جیب سے دیتے ہیں، وفاقی وزرا نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں چھوڑی ہیں ، وزرا کے پاس ایک سرکاری رہائش گاہ، 300 لیٹر پیٹرول ، ایک 1800 سی سی گاڑی، ایک ڈرائیور اور ایک سیکورٹی گارڈ ہے، زیادہ تر وزرا اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں