آرمی چیف کی زیر صدارت کانفرنس، بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی پر زور
راولپنڈی(پ ر)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت 83 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کور کمانڈرز، پرنسپل سٹاف آفیسرز اور سیکورٹی فورسز کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں جاں بحق اہلکاروں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی، ملک کی حفاظت کیلئے مسلح افواج کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جبکہ فورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرس کے دوران فورم کو جیو اسٹریٹجک حالات، قومی سلامتی کے لیے ابھرتے ہوئے چیلنجز پر بریفنگ دی گئی جبکہ فورم کو ملٹی ڈومین خطرات سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کی حکمت عملی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔اسی طرح کانفرنس میں سیکورٹی فورسز کو جدید بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی جبکہ فورم کو فیلڈ فارمیشنز کے لیے لاجسٹک سپورٹ کو بہتر بنانے کے لیے نئی تکنیکی تخلیقات کے بارے میں بھی بتایا گیا۔فورم نے افغانستان کی سرحد پار سے مسلسل خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے امن دشمنی کی منصوبہ بندی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔فورم نے کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے دشمن پاکستان کے اندر سیکورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے افغانستان کو استعمال کر رہے ہیں۔آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کانفرنس کے دوران فورم نے بھارت میں سیاسی مقاصد کے لیے بڑھتے ہوئے فاشزم پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک پر تشویش کا اظہار کیا۔فورم نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور غزہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی مذمت کی جبکہ فورم نے غزہ پٹی کے اندر رفح آپریشن اور دیگر تمام آپریشنز کو روکنے کے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی حمایت بھی کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے مختلف مشقوں کے دوران فارمیشنز کی اعلیٰ و معیاری تربیت کو سراہا جبکہ جنرل سید عاصم منیر نے امن دشمنی کے خلاف کی کارروائیوں میں اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا۔فورم نے یوم تکبیر پر پاکستان کی طرف سے حاصل کیے گئے اہم سنگ میل اور خطے پر اس کے مستحکم اثرات کو سراہا اور کہا کہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو درپیش تمام خطرات کو قابل فخر قوم کی مکمل حمایت سے ناکام بنا دیا جائے گا۔فورم نے امن دشمنی کے خلاف جنگ میں نئے ضم شدہ اضلاع کے عوام کی بیش قربانیوں کا اعتراف کیا اور امن دشمنی کو فیصلہ کن شکست دینے کیلئے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔کانفرنس کے دوران فورم نے بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ سماجی و اقتصادی ترقی سے ہی بیرونی طور پر پروپیگنڈا کرنے والوں کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔فارمیشن کمانڈرز نے پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے حمایت کے عزم کا اظہار کیا اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام میں بشمول سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، بجلی چوری کو روکنے کی کوششوں میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔فورم نے ون ڈاکیومنٹ رجیم، غیر قانونی و غیر ملکی تارکین کی باعزت وطن واپسی کی حمایت کا اظہار کیا اور قومی ڈیٹا بیس کی حفاظت کیلئے مختلف شعبوں میں حکومت کے اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے مشرقی سرحد پر موجودہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا، فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کے تازہ ترین واقعات کا جائزہ لیا اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔فورم نے کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی عمل داری کو قائم کرنے اور 9 مئی کے مجرمان کے خلاف فوری اور شفاف عدالتی کارروائی کے بغیر ملک ایسے سازشی عناصر کے ہاتھوں ہمیشہ یرغمال رہے گا۔کانفرنس کے شرکاءنے کہا ہے کہ قوم جھوٹ اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم اور مکروہ عزائم سے پوری طرح باخبر ہے، ان ناپاک قوتوں کے مذموم ارادوں کو مکمل اور یقینی شکست دی جائے گی، ملک کے وسیع تر مفاد میں لازم ہے کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں، حوصلہ افزائی اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔شرکاءنے مزید کہا کہ ریاستی اداروں بالخصوص افواج کے خلاف ڈیجیٹل امن دشمنی ، مذموم سیاسی مقاصد کے لئے بیرونی سہولت کاروں کی مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے، اسکا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈا کے ذریعے قوم میں مایوسی پیدا کرنا ہے، ڈیجیٹل امن دشمنی کا مقصد اداروں بالخصوص افواج اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے۔پروپیگنڈا کرنے والوں کی پشت پناہی غیر ملکی سپانسرڈ پراکسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، اس کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو امن اور ترقی سے دور رکھنا ہے۔


