گوادر کے مقامی ماہی گیروں کا معاشی قتل، ٹرالر مافیا نے پسنی میں ڈیرے جما لیے
گوادر (این این آئی) گوادر میں ٹرالر مافیا نے پسنی چربندن میں ڈیرے جمالئے،مقامی ماہی گیر پریشان،محکمہ فشریز غریب ماہیگیروں کا معاشی قتل کرنے والی ٹرالرز کی تدارک میں ناکام،ماہیگیروں کا معاشی استحصال عروج پر ،مقامی ماہیگیروں نے غیر قانونی ماہیگیری میں مصروف گجہ ٹرالرز کی ویڈیو وائرل کردی۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی ایک دفعہ پھر ٹرالر مافیا کے شکنجے میں ہے،مہلک جالوں سے لیس سندھ کے گجہ ٹرالرز کی بڑی تعداد نے پسنی چربندن مین ڈھیرہ جمالیا،جمعرات و جمعہ کے روز 12 ناٹیکل میل کی حدود میں ساحل سمندر میں سندھ کے گجہ ٹرالرز بلا خوف و خطر غیرقانونی شکار میں مصروف دکھائی دیئے جن کا مقامی ماہیگیروں نے غیر قانونی ماہیگیری میں مصروف پاتے ہوئے ویڈیو وائرل کردی جبکہ محکمہ فشریز کی گشتی ٹیم کی موقع پر دور دور تک آثار دکھائی نہیں دیئے۔دوسری جانب موجودہ رکن صو بائی اسمبلی گوادر کہ جس کے تاریخی ریلیوں میں ماہیگیروں کی لازوال قربانیاں ان کے سمندر کی تحفظ کے ضمانت ہر تھیں باوجود کہ غیر قانونی ماہیگیری میں گزشتہ ادوار سے بھی زیادہ تیزی دیکھنے کو مل رہا ہے جس سے اکثر ماہیگیروں کے زہنوں میں مختلف قسم کے شک و شہبات جنم لے رہے ہیں۔واضع رہے پسنی بشمول ضلع گوادر اکثریتی آبادی کا واحد ذریعہ معاش ماہیگیری ہے ان کے سمندر کو غیر قانونی ٹرالرز بیدری سے لوٹ کر بانجھ بنارہے ہیں جس کے سبب ماہیگیروں کے ہزاروں خاندانوں کے روزی روٹی کا بند و بست دن بہ دن تنگ ہوتا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومت بلوچستان و محکمہ فشریز ان ٹرالرز کی روک تھام میں بری طرح ناکام ہوکر رہ گئے ہیں۔یاد رہے کہ گوادر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد موجودہ رکن صو بائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں 31 روز تک سراپا احتجاج رہے۔ اس ضمن میں مظاہرین نے گوادر میں کیمپ لگا کر تاریخی دھرنا بھی دے رکھا تھا جن میں کسیر تعداد ماہیگیروں کی تھی۔ ماہیگیروں نے اس ضمن میں اس دھرنے میں اپنے خاندان و خواتین سمیت بھرپور شرکت کی کہ اس تحریک کا سب سے اہم ایجنڈا و نعرہ گوادر کے سمندر میں غیر قانونی ماہیگیری کا خاتمہ تھا۔


