خضدار میں آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ، کاٹنے کے واقعات
خضدار(بیورو رپورٹ) خضدار حکومتی ادارے موثر اقدامات سے گریزاں ہیں شہر میں آوارہ کتوں کے غول کے غول گھوم رہے ہیں میونسپل کارپوریشن خضدارکی جانب سے آوارہ کتوں کے خلاف کوئی بھی مہم نہیں چلائی جارہی ہے شہر میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کی کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہاہے رواں سال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے کتے کے کاٹنے کے کیسز دیکھنے میں آرہے ہیں تاہم انتظامیہ کی جانب سے آوارہ کتوں کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی جارہی ہے ایک دو سال قبل شہر میں سگ گزیدگی کے کیسز مختلف اسپتالوں میں رپورٹ ہوئے تاہم محکمہ صحت اوردیگر زمہ دار اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئےشہر میں آوارہ اور پاگل کتے شہریوں کے لئے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں محکمہ صحت اور میونسپل کارپوریشن کی سطح پر کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لئے نس بندی مہم تو چلائی جارہی ہے مگر خطرناک کتوں سےشہریوں کے تحفظ کے اقدامات نظرانداز کردئیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کتوں کے خاتمے کی مہم نہ چلنے کے سبب شہر بھر میں کتوں کی بھرمار ہےجس کے نتیجے میں ہر سال سگ گزیدگی یعنی کتوں کے کاٹنے کے کیسز بڑھتے جارہے ہیں واضح رہے کہ شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات سے شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں کئی برس سے موثر اقدامات نہ ہونے کے باعث آوارہ کتوں کی آبادی تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہےگلی، محلوں، پارک، کھیل کے میدان اور تعلیمی ادارے بس اسٹاپ اور بازار حتیٰ کہ اسپتال تک میں آوارہ کتوں کے غول کے غول گھومتے نظر آتے ہیں خواتین بچے اور عمر رسیدہ افراد خطرناک آوارہ اور پاگل کتوں کا نشانہ بن رہے ہیں شہر کے تمام تحصیلوں میں آوارہ کتوں کی بہتات کے باعث شہری مشکلات کا شکار ہیں سگ گزیدگی کے مسلسل بڑھتے واقعات اور شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے موثراقدامات سے گریزاں ہیں عوامی حلقوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیاہے کہ خضدار شہر میں کتوں کے خلاف مہم شروع کرکے انکو تلف کیا جائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لے سکیں۔


