دھرنے کا چوتھا روز، حکومت آج مطالبات مان لے جتنی دیر ہوگی اتنا نتصان ہوگا، جماعت اسلامی

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا چوتھے روز میں داخل ہوگیا، جماعت اسلامی نے مذاکرات کی کامیابی تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ آج حکومتی کمیٹی سے مذاکرات ہوں گے، دوسری جانب ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے گرفتار رہنماؤں کو رہا کرنے کی تصدیق کردی۔سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھئ دھرنے میں پہنچ گئے۔جماعت اسلامی کا راولپنڈی کے لیاقت باغ میں مہنگائی اور مہنگی بجلی کیخلاف دھرنا چوتھے روز میں داخل ہو گیا، دھرنے میں کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے جبکہ دھرنے کے شرکاء نے رات کے وقت بھی لیاقت باغ میں ہی ڈیرے ڈالے رکھے۔جماعت اسلامی کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، مطالبات کی عدم منظوری پر جماعت اسلامی دھرنے کو توسیع دے گی۔ملک بھر سے مزید کارکنان آج دھرنے میں شمولیت کریں گے، آج جماعت اسلامی خواتین کا پاور شو بھی کرے گی جبکہ رات گئے کارکنوں کی جانب سے پنڈال میں نعرے بازی جاری رہی۔ادھر امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی گورنر ہاوس پر پرسوں سے دھرنا شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ کہا کہ دیگرشہروں پشاور ،کوئٹہ ،پنجاب سے مشاورت ہوگئئ وہاں بھی دھرنا ہوگا۔ ایک دھرنا ادھر راولپنڈہ میں ہوگا باقی تمام صوبوں میں دھرنے ہونگے۔انھوں نے وفاق سے مخاطب ہو کر کہا کہ حکومت سے کہتا ہوں آج مان لو جتنا دیرکروگے اتنا اپنا نقصان کروگے ۔ اگست سے بل آئیں توہم تاجروں صنعت کاروں،عوام سے کہیں گے کہ بل نہ دینے کا اعلان کریں۔ کوئی یہ نہ سمجھے یہ ہم سیاست کررہے یہ ہم فرض سمجھ کرکر رہے ہیں، ہم نے تحمل سے کام لیا،ہم نے حکمت عملی سے کام لیا ہے۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ اس سے بڑا اجتماع خواتین کا آج تک پاکستان کی تاریخ میں بھی نہیں ہوا اب پاکستان تبدیل ہوگا ظلم کیخلاف جدوجہد کرنا فرض ہے،انھوں نے کہا کہ گنے پر پاور پلانٹ چلاتے اور امپورٹڈ کول کو چارج کرتے ہو، لیپ ٹاپ اور آٹے کے تھیلے تصویروں کے بنائے جاتے یہ اب نہیں چلے گا، ان بچوں کو فری آئئ ٹی کی تعلیم دو اس ملک کو آگے لیکر جاسکتے، ہم حکومت نہیں ہیں پھربھی ہم نے لاکھوں بچوں کو فری آئی ٹی کورس کروا رہے ہیں۔ جن کو نظرثانی کرنی وہ نظرثانی کرو،یہ دھندہ بند کرو۔دوسری جانب ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے تمام گرفتار رہنماؤں کو رہا کر دیا۔حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع نہ ہو سکا 28 جولائی کو کمشنر راولپنڈی کے دفتر میں ہونے والے مذاکرات کے پہلا دور میں جماعت اسلامی نے اپنے تمام مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھ دیئے تھے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے دوسرا دور آج ہونے کی یقین دہانی کروا رکھی تھی۔حکومتی مذاکراتی ٹیم میں عطاء تارڑ، طارق فضل چوہدری اور امیر مقام شامل تھے جماعت اسلامی کی ٹیم میں لیاقت بلوچ، امیر العظیم، نصراللہ رندھاوا اور سید فراصت شاہ شامل تھے۔حکومتی مزاکرتی ٹیم نے مذاکرات میں ٹیکنیکل کمیٹی کو شامل کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے جبکہ جماعت اسلامی کا مطالبات کی منظوری کے لیے دھرنا گزشتہ چار روز سے جاری ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ مطالبات ٹالنےکی کوشش نہ کریں، دھرناتمام مطالبات تسلیم کرنے پرہی ختم ہوگا۔امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نےدھرنےکےشرکاء سےخطاب کرتےہوئےکہا ہے کہ ابھی تو دھرنوں کا اعلان کیا ہے،ہڑتال کا آپشن باقی ہے،ڈی چوک اور پارلیمنٹ کا آپشن بھی کھلا ہے،جب ہڑتال ہوگی تو ساری فیکٹریاں بھی بند ہوں گی۔انہوں نے کہا ہے کہ شہباز شریف صاحب! ہمارا موڈ سمجھ لو،ریلیف لینے آئے ہیں، مطالبات کو مان لیں اسی میں بھلائی ہے،ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے،کنٹینرز ہمارا راستہ نہیں روک سکتے، یہ چاہتےہیں کہ آئی پی پیز کادھندا چلتا رہے۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ سمیت سب کو 1300 سی سی گاڑیاں دی جائیں، تمام ججز کو بھی تیرہ سو سی سی گاڑیاں فراہم کی جائیں، بڑی بڑی گاڑیوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں