دھرنوں اور مظاہروں پر کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے مذاکرات کا بہانہ تاخیری حربہ ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی
کوئٹہ ( پ ر)بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ گوادر کی صورتحال تشویشناک ہے ۔ ریاستی اداروں اور گوادر انتظامیہ کی طرف سے مذاکرات کی کوششیں غیر سنجیدہ ہیں، جس کا مقصد مظاہرین کو منتشر کرنا اور ظالمانہ دبائو کو تیز کرنا ہے، جس سے مزید خونریزی ہو رہی ہے۔ ایک جانب گوادر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں، دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو دھمکایا جا رہا ہے کہ وہ پرامن احتجاج سے دستبردار ہو جائیں، ورنہ وہ طاقت کے ذریعے دھرنے کو منتشر کر دیں گے۔ انتظامیہ اور حکام بی وائی سی قائدین اور دیگر مظاہرین کو برائے راست فائرنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ آج کے دن ہمیں سنگین نتائج کی مختلف زرائع سے دھمکیاں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نوشکی میں پرامن مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو جان بحق اور درجنوں کو زخمی کردیا گیا۔ کراچی میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا، انہیں سڑکوں پر گھسیٹا اور تشدد کا شکار بنانے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ایسی کارروائیاں حکومت کی منافقانہ عزائم کو ظاہر کرتی ہیں۔ بی وائی سی کارکنوں اور قائدین کے خلاف اپنی ظالمانہ کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے مذاکرات کا بہانہ ایک تاخیری حربہ ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ ہم گزشتہ چار دن سے آل پارٹیز کی ثالثی میں ریاست کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں۔ مذاکرات کے دوران بار بار ریاست سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ ریاست سازگار ماحول پیدا کرے، بلوچستان بھر میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت اور تشدد کا استعمال بند کرے، راستے اور انٹرنیٹ کھول دے جن کی بندش سے پورے مکران میں خوراک اور ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ 8-9 دنوں سے لوگوں کے اپنے گھروں میں کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں ہو رہا۔ لیکن ریاست ہمارے آئینی اور قانونی مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے مذاکرات کے نام پر ہمیں مسلسل ہراساں کررہی ہے اور دھمکیاں دے رہی ہے کہ اگر دھرنا ختم نہیں کیا گیا تو قتل عام کرکے دھرنے کو ختم کروائیں گے۔ہم چار دن سے مذاکرات کے دوران بار بار ریاست سے کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان بھر میں پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت اور تشدد کا استعمال بند کریں تاکہ یہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں، لیکن ریاست طاقت اور تشدد کے استعمال کو بند کرنے کے بجائے اس میں شدت لارہی ہے۔ بی وائی سی نے بیان میں مزید کہا کہ ان چار دنوں کے جاری مذاکرات کے دوران بھی کوئٹہ اور کراچی سے پرامن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور ان پر بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔ جبکہ کل ریاست نے درندگی کی تمام حدیں پار کردیں، نوشکی میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو جاں بحق جبکہ متعدد کو زخمی کردیا۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ریاست میں قانون اور آئین نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ایک جانب ریاست نے اپنے انتظامیہ اور وزراء کو ہمارے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے بھیجا ہے، یہاں انتظامیہ اور وزراء ہمارے ساتھ وعدہ کرتے ہیں کہ اب کوئی طاقت اور تشدد کا استعمال نہیں ہوگا، لیکن دوسری جانب گوادر میں جاری مذاکرات کے دوران ہی نوشکی اور کراچی میں پرامن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔ بربریت کی بدترین مثال قائم کی جارہی ہے۔ا نکے مطابق ریاست پاکستان اپنے ہر قدم کے ساتھ ثابت کررہی ہے کہ بلوچستان میں پرامن احتجاج کو بھی کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پرامن احتجاج کی اجازت تو خود پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے، لیکن ریاست گوادر میں ایک پرامن دھرنے کے خلاف اپنی پوری طاقت بلوچ قوم کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ یہ کونسا قانون ہے کہ پرامن دھرنے کے بدلے پورے بلوچستان کو گزشتہ دس دنوں سے مکمل سیل رکھا جائے؟ پورے مکران میں اس وقت کرفیو نافذ ہے۔ ریاست بلوچوں کو بندوق اور بھوک دونوں سے قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے۔ہم ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ آپ ظلم کی تمام حدود پار کرکے پورے بلوچستان سے لاکھوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کررہے ہیں۔ اگر اس بربریت اور درندگی کے خلاف لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو اس عوامی سیلاب میں آپ کی طاقت اور غرور سب غرق ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس وقت بلوچستان کی خطرناک صورتحال کا مکمل نوٹس لے۔ گوادر سمیت پورے مکران میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ اقوام متحدہ کا نوٹس لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کا سبب بن سکتا ہے۔


