تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے پریشان بیوٹمز ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ
کوئٹہ (آن لائن) بیوٹمز اسٹاف ایسوسی ایشن (بی ایس اے) کے صدر سہیل انور، عصمت ، حسرت شاہ کی قیادت میں یونیورسٹی کے عملے کی تنخواہوں اور دیگر مسائل کے حل کے لئے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیوٹمز کے ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی وجہ سے پریشان ہیں اور ادارے میں کرپشن اور میرٹ کے خلاف بی ایس اے آج احتجاج پر مجبور ہے جس طرح انتظامیہ ملازمین کے مسائل حل کرنے اور تنخواہیں دینے ، ہاﺅس ریکوزیشن، ہیلتھ پالیسی، بونس ، جی پی فنڈ اور پنشن کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے جبکہ موجودہ وائس چانسلر اساتذہ کی اسٹڈی ٹور اور طلباءکی اسکالر شپس بند کردی ہے حکومت تنخواہوں کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کریں اور یونیورسٹی میں گزشتہ 10 سالوں کا فنانشل اور انتظامی آڈٹ کیا جائے اس وقت بھی کرپشن ہورہی ہے یونیورسٹی کے تکتو ، مسلم باغ کیمپس کی تعمیر ، سولر منصوبے میں کرپشن ای ایف یو انشورنس اسکینڈل ، ایچ ای سی کے ضوابط سے ہٹ کر ترقیاتی حتیٰ کہ رجسٹرار ڈاکٹر زاہد کو غیر قانونی طور پر پرموٹ کرکے پروفیسر بنادیا اور انتظامی امور انہیں سونپنا درست نہیں اس کی تحقیقات کی جائے انہوں نے کہا کہ کرپشن اور جعلی ترقی پر آواز اٹھانے کی پاداش میںملازمین کو دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ جعلی کیسز بناکر گرفتار کرنا، شوکاز نوٹس دیئے جاتے ہیں موجودہ وائس چانسلر کے گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے کے 40 سے زائد سینئر پروفیسرز استعفیٰ دیکر چلے گئے 50 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو نوکریوں سے نکالا گیا اور طلباءکی سکالر شپ ختم کرکے فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے اس لئے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ تنخواہوں کے مسئلے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے دیگر مسائل کے حل کو یقینی بناتے ہوئے موجودہ وائس چانسلر اور بیوٹمز انتظامیہ کا احتساب کرکے ادارے سے کرپشن اور قربا پروری کو ختم کرکے اس تعلیمی ادارے کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔ مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔


