سی پیک روڈ 17 دن بعد ٹریفک کیلئےبحال
گزشتہ 17 دن سے پاک چین کاروبار سے منسلک افراد نے سوست ڈرائی پورٹ میں دھرنا دے رکھا تھا، تاجروں نے مطالبات پورے نہ ہونے پر یہ دھرنا قراقرم ہائے وے پرمنتقل کردیا تھا ،جس کی وجہ سے تمام تر کاروبار بند اور کسی قسم کی تجارت نہیں ہورہی تھی۔چین اور پاکستان آنے والے تمام مسافر دونوں اطراف میں بند تھے، گاڑیاں بھی نہیں چل رہی تھی اور کاروباری نظام بند ہونے کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی مسافر بھی پھسے ہوئے تھے۔تاجروں کے مطالبات تھے کہ سوست ڈرائی پورٹ سے سیل ٹیکس اور انکم ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے، چیف کورٹ گلگت بلتستان کے فیصلے پر من و عن عمل درامد کیا جائے اور گلگت بلتستان اسمبلی کی قرارداد پر فوری عمل درامد کیا جائے۔کسٹم اہلکاروں کی برطرفی بھی تاجروں کے مطالبات میں شامل تھی۔جس سے 17 دنوں سے جاری دھرنا اور 8 مہینے سے بند تجارت بحال ہوگئی ہے۔چیمبر آف کامرس کے صدر عمران علی نے انتخاب سے گفتگو میں کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ اور یہاں کے لوگ انکم ٹیکس سے مستثنی ہیں، جو کہ چائنا کاروبار سے وابستہ افراد سے لیا جارہا تھا۔عمران علی نے بتایا کہ گلگت بلتستان اسمبلی سے بل پاس ہونے کے باوجود ہم سے مختلف قسم کے ٹیکس اور انکم ٹیکس لیے جاتے تھے جسے اب تمام کاروباری برادری نے مل کر حل کیا ہے۔’ہم تمام مکتبہ فکر کے افراد سیاسی و سماجی شخصیات اور میڈیا کے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچائی،ہماری آواز بنے اور ہمارے مطالبات حل ہوئے جس پر دھرنا بھی ختم کردیا ہے۔‘


