خضدار، کتاب تک کا سفر

زبیر بلوچ
کئی سالوں تک آگ و خون کی لپیٹ میں رہا بابو نوروزکی گلزمین اور بلوچستان کادل خضدار اب علم وشعور میں آگے آ گے بلوچستان کا مستقبل تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے میں مرکزی کردار ادا کررہا ہے خضدار اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے بھی بلوچستان سمیت دنیا بھر میں جانا جاتا ہے بلوچستان کے مشہور قبائل زہری،مینگل،بزنجو اور ساسولیوں کا گھر تمام بلوچستان کا دل شمارہوتا ہے۔1958کے زمانے میں ناانصافیوں اور مظالم کے خلاف تاریخی جدوجہد میں خضدار کے عظیم فرزندوں کا کردار ہو یا بلوچستان میں سیاسی و طلباء جدوجہد میں یہاں کے نڈر نوجوانوں کی عملی جدوجہدمیں خضدارکبھی پیچھے نہیں رہا ہے گوکہ خضدار کے باسیوں کو زیر کرنے انہیں بلوچستان سے جدا کرنے،لوگوں کے دل میں اپنے لوگوں کے خلاف سازش و بدامنی پھیلانے کی سازش و حربے ہوں تمام زیر استعمال لائے گئے ہیں لیکن تمام سازش و ہتھکنڈوں کے باوجود خضدار کے باشعور عوام و نوجوانوں نے حقیقی راہ سے کبھی راہ فرار اختیارنہیں کی۔
بلوچ کلچر جودنیا بھر میں بڑے آن و شان سے منایا جاتا ہے لیکن بہت ہی کم لوگوں کو شاید اس بات کا علم ہے کہ بلوچ کلچر کو اپنے لہو سے سرخ کرنے والے خضدار کے نوجوان ہی تھے، جنہوں نے اپنا لہو بہا کر بلوچ کلچر کو بھی خون سے رنگ کر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا، طلباء جدوجہد کے بے باک کردار بھی ہمیشہ خضدار سے ملتے ہیں بلوچ سیاسی وعلمی جدوجہد میں خضدار کبھی بھی پیچھے نہیں رہا ہے، خضدار کے علمی لوگوں کو چن چن کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کر دیا گیا تاکہ خضدار کو علمی خزانے سے محروم کیا جا سکے، جس میں پروفیسر رازق جیسے باشعور استادوں کا قتل ہو یا خضدار میں صحافیوں کا قتل و اغواء، بلوچستان سے سب سے زیادہ صحافیوں کا قتل بھی خضدار میں ہوا،، مذہبی انتہا پسندی میں خضدار کو سب سے زیادہ د ھکیلنے کی کوشش کی گئی تاکہ خضدار میں لوگ شعوری و فکری و نظریاتی جدوجہد سے منحرف ہوکر ذہنی پستی کی طرف جاتے ہوئے قومی سوچ سے محرقوم ہو جائے، جبکہ برادر کشی کیلئے بھی خضدار کے لوگوں کو سب سے زیادہ بھڑکایا گیالسانی تضاد پیدا کرنے کیلئے یہاں حتی الوسیع حربے رچائے گئے ان تمام حربوں کے باوجود خضدار کے با شعور عوام اور خاص نوجوان طبقے کو ورغلانے کی کوششیں ناکام ہوئیں اس کی وجہ سے خضدارکے عظیم کرداروں کی تاریخی قربانیاں ہیں۔جنہوں نے یہاں کے لوگوں کو اتناباشعور بنادیا ہے جو کسی بھی سازش میں نہیں پھنسیں گے۔
خوش قسمتی سے کچھ دوستوں کی قربت کی وجہ سے ایک دو مرتبہ خضدار جانے کا اتفاق ہوا،نوجوانوں کی تعلیم سے دوستی سیاسی،سیاسی و علمی بحث و مباحث، طلباء و قومی سیاست کے داؤ پیچ پر اکیڈمک ڈسکیشن نے مجھے زاتی طور پر حیران کر دیا، جہاں پر کئی سالوں سے خاموشی کے باوجود نوجوانوں کی سیاسی بالیدگی اس بات کا گواہ تھا کہ خضدار کبھی حقیقی جدوجہد سے جدا نہیں ہوا۔ وہ علاقہ جہاں کتابوں اور سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو وہاں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر علمی و اکیڈمک گفتگو نے مجھے خضدار کے آگے بڑھنے کا یقین دلایا،خضدار کے نوجوان علم، فلسفہ،تشدد پرامن جدوجہد کے فائدہ و نقصانات،نیشنلزم کے نظریہ،قومی و عوامی سیاست کی ضرورت،بینکنگ نظام تعلیم پر تمام دن بحث و مباحث کرتے ہیں۔آج خضدار کے نوجوان تمام بندوشوں کے باوجود کتاب کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ خود کتاب سے دوستی کرچکے ہیں حالیہ دنوں نوجوانوں نے کتاب ہاتھ میں تھمائے ہوئے احتجاج کیا تھاکتاب ہاتھ میں تھمائے ہوئے احتجاج کرتے نوجوانوں کو دیکھ کر مجھے یقین ہوا کہ خضدار کے لوگوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی خواہش خاک میں مل چکی ہے۔
آن لائن کلاسز کے معاملے پر خضدار میں نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے، بھوک ہڑتالی کیمپس اور پریس کانفرنسز ہوں یا لابرئیری اور کتاب کلچر کو فروغ دینے کیلئے خضدار کے باشور نوجوانو ں کی شعوری و علمی جدوجہد یہ اس بات کا عکاسی کرتی ہے کہ خضدار کے نوجوان علم کی طرف گامزن ہیں اورباشعور لوگوں کو عمل سے دور رکھنا ممکن نہیں، حالیہ شورش سے بلوچستان کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں خضدار سرفہرست ہے طلباء ایکٹیوزم سے لیکر سیاسیت و صحافت تک تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو سخت حالات کا سامنا رہا ہے لیکن یہاں کے لوگوں کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوئے ہیں۔
خضدارمیں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ عرصہ دراز سے آباد ہیں جہاں ان کے مذہبی عبادت گاہیں بھی موجود ہیں لیکن بلوچ روایت کے پاسدار خضدار کے باسیوں میں کبھی بھی مذہبی تفریق دیکھنے کونہیں ملا ہے بلکہ کچھ دن پہلے ایک ہندؤ تاجر کو جرائم پیشہ افراد (یہ وہ جرائم پیشہ افراد ہیں جو بلوچستان کے تمام کونوں میں سرگرم ہیں جن کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں)نے قتل کردیا تھا اس ناروا قتل کیخلاف خضدارکے باشعور لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے اس بات کاثبوت دیا کہ یہاں پر رہائشی تمام افراد چاہیں وہ جس بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یہاں کا باسی اور زمین کا اتنا ہی وارث ہیں جتنا یہاں پر آباد بلوچ۔
خضدار کے باشور لوگوں کی قومی سوچ نوجوانوں کا تعلیم کی طرف گامزن ہونا،جرائم پیشہ افراد کے خلاف لوگوں کے دل میں بڑھتی نفرت اس بات کا غماز ہے کہ خضدار کے لوگوں کے اندر سازش رچانے اور کتابوں پر پابندی لگا کر نوجوانوں کو کتاب سے دور رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔پروفیسر رازق جیسے استاد کو خضدارسے چھین کر تعلیم دشمن عناصر اس سوچ میں مگن تھے کہ یہاں کے لوگوں کو کتاب و شعور سے دور رکھیں گے لیکن پروفیسر رزاق کی باعلم جدوجہد نے آج رنگ لایا ہے اور خضدار علم و تعلیم اور شعوری جدوجہد کی طرف گامزن ہے نوجوانوں کے اندر جوش و جذبے کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ یہ اس سفر کا آغاز ہے آنے والے وقت میں نوجوانوں کا یہ کاروان مزید وسعت اختیار کرتا جائے گا کیونکہ تاریخکے ا ورق اس بات کی گواہی دیتیہیں کہ شعوری عمل کا کبھی خاتمہ نہیں ہوتا وہ وقت کے ساتھ ساتھ وسعت اختیار کرتا جائے گا۔
خضدارکے باشعور عوام کی بلوچ قومی و سیاسی جدوجہد سے دور رکھنے انہیں تعلیم سے دور رکھنے اور خضدار میں مذہبی نفرت پھیلانے والے تمام عناصر آج ناکامی کا منہ دیکھ رہے ہیں امید اور یقین ہے کہ کبھی خاموشی کے بعد خضدار کے باشعور نوجوان وہاں موجود نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرتے ہوئے انہیں کتابوں کے ساتھ جوڑ کرر مزید منظم ومتحرک کریں گے تاکہ مستقبل میں باشعور نوجوان کسی بھی حالت میں خاموش رہنے کے بجائے مزید ابھریں اور خضدار کو اس تاریخی جدوجہد سے ہمیشہ کی طرح روشنا س کرائیں۔تاریخ میں کامیابی اس کے نصیب میں ہوتا ہے جو جہد مسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور کسی بھی مظالم و سخت حالات میں اپنی حقیقی راہ سے راہ فرار اختیار نہیں کرتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں