سندھ حکومت نے ملک کے 19 بڑے ادارے پرائیویٹ کرنے کے وفاق کے فیصلے کی مخالفت کردی

کراچی:سندھ حکومت نے ملک کے 19 بڑے ادارے پرائیویٹ کرنے کے وفاق کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے ملک کے 19 ادارے پرائیویٹ کرنے کی سازش تیارکرلی گئی ہے. صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے مزید کہا کہ وفاق کو اسٹیل ملز, پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل, سروس انٹرنیشنل ہوٹل لاھور, بلوکی پاور پلانٹ, حویلی بھادر پلانٹ, نندیپور, گڈو پاور پلانٹ، اسٹیٹ لائیف, او جی ڈی سی ایل, پی ایس او, سندھ انجنیئر نگ کو بھی پرائیوٹ نہیں کرنے دیں گے, وفاق نے جامشورو پاور جنریشن اور لاکھڑا پاور پلانٹ کو بھی بیچنے کی تیاری کرلی ہے. صوبائی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے،عوام دشمن فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں,یہ ادارے اونے پونے داموں پر اے ٹی ایم مشینز کے حوالے کئے جائینگے. انہوں نے کہا کہ اداروں کی نجکاری قومی مفاد کیلئے نہیں بلکہ اپنے نوازنے کی پالیسی کا حصہ ہے، ادارے بیچنے سے 32 ھزار755 ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے.اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ حکومت 32 ھزار سے زائد گھرانوں کا چولہا بھجنے نہیں دیگی، سلیکٹڈ نے منافع بخش اور چلتے اداروں کا بھٹہ بھی بٹھا دیا، ریلوے، پی آئی اے، روزویلٹ ہوٹل، پی ایس او اور کئی بڑے اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا.انہوں نے کہا کہ نیازی حکومت کے کرتا دھرتا ان قومی اثاثوں کو ہتھیا نے کیلیے گھات لگائے بیٹھے ہیں، عمران خان کا کہاں گیا وہ واعدہ کہ نہ چلنے والے ادارے بھی چلاکر دکھائینگے. وزیر زراعت نے کہا کہ کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے لاکھوں نوجوانوں کو بے روزگار کیا جا رہا ہے، سلیکٹڈ حکومت کو کوئی بھی ادارہ بیچنے نہیں دیا جائیگا، نہ ہی ملازمین کی بے روزگاری قبول کی جائے گی. انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ملک کی حالت افغانستان سے بھی بدتر کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں