پشتونوں کا اپنا صوبہ اور اسمبلی ہونی چاہئے،چمن بارڈر کو 15مارچ سے قبل کی پوزیشن پر بحال نہیں کیا گیا تو بغاوت کا خدشہ ہے، محمود خان اچکزئی
کوئٹہ;پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ عمران خان نہیں غیر آئینی حکمرانی سیاست میں اداروں کی مداخلت ہے پاک افغان بارڈرکو 15مارچ سے قبل کی صورتحال پر بحال نہ کیا گیا تواس سے بغاوت کا خدشہ ہے چمن میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی خطرناک ہے،
پشتونخواملی عوامی پارٹی چمن کے لوگوں کے 15مارچ سے قبل کی بارڈر صورتحال کو بحال کرنے،شناختی کارڈ دیکھ کر آمدورفت کی اجازت دینے،پرمٹ سسٹم کے خاتمے کی حمایت کرتی ہے،آئین کی بالادستی اور عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ کے قیام کے بغیر پاکستان نہیں چلایا جاسکتا، موجودہ نظام ڈوب رہا ہے اے پی سی میں آئین کی بالادستی کا ایجنڈا نہ ہونے پر اس میں شرکت نہیں کرونگا، سیاسی جماعتوں نے اقتدار کو میوزیکل چیئر بنا دیا ہے کچھ خاندان قیام پاکستان سے آج تک برسر اقتدار ہیں،یہ بات انہوں نے پیر کو اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفر نس کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ لوگ ہم سے اس لئے ناراض ہوتے ہیں کیونکہ ہم وہ کچھ کہتے ہیں جو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا چمن میں پیش آنے والا واقعہ دلخراش ہے ڈیورنڈ لائن پر جو خاردار تار لگائی جارہی ہے اسکے تناظر میں 1893ء سے 2015ء تک جو آمدورفت ہوتی تھی وہ بند ہوجائے گی یہ لائن پشتونوں کوبحیثیت قوم دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر لوگوں کی کئی کئی میل پر زمینیں ہیں لوگ یہاں کاشتکاری اور اپنے جانور چراتے ہیں غریب لوگ صبح سے شام تک بارڈر کے آر پار مزدوری کرکے اپنا گھر چلاتے ہیں جب 122سال سے آمدورفت جاری تھی تو بارڈرسیل کرنے کی کیا ضرورت ہے اکیسویں صدی میں تو حیوانوں کے بھی حقوق ہیں اورانہیں بارڈر پرنہیں روکا جاتا تو انسانوں کو کیوں جبری طور پر روکا جارہا ہے یہ بربادی کا راستہ ہے کیا اب لوگوں کو اپنی زمینیں آباد کرنے کیلئے اور آنے جانے کیلئے روزانہ ویزے لینے پڑیں گے زاہدان سے چمن تک بارڈر کو بند کرنے کے منفی اثرات ہونگے حکومت پاکستان اگر پاک افغان بارڈر پر کسٹم ہاوس بنانا چاہتی ہے یا پھر عالمی ٹریڈ کرنا چاہتی ہے تو 8ایسے مقامات ہیں جن پر کسٹم ہاؤس بنائے جاسکتے ہیں یہ راستے افغانستان سے وسطی ایشیاء تک بھی نکل سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ طورخم اورچمن پر ہزاروں لوگ بارڈر کے اس پار مزدوری کیلئے جاتے ہیں یہ لوگ اس طرح کی پابندی نہیں مانیں گے اگر یہی سلسلہ جاری
رہا تو مجھ سمیت بہت سے لوگ عدالتوں بالخصوص عالمی عدالت انصاف میں جانے سے گریز نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسوقت باڑ جن علاقوں میں لگی ہے وہاں پرانسانی اسمگلنگ جاری ہے 10سے 12ہزار لیکر لوگوں کو آنے جانے دیا جاتا ہے جوکہ سراسر غلط اورغیرانسانی ہے ہماری حکام سے گزارش ہے کہ مسئلے کو خراب نہ کیا جائے لوگ بغاوت پر اتر آئے تو حکومت پاکستان کیلئے صورتحال سنبھالنا مشکل ہوجائے گا عام انسان کو آمدورفت سے روکنے کے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورہندوستان کے روز اول سے تعلقات خراب ہیں لیکن واہگہ سے لاہور تک کوئی چیک پوسٹ نظرنہیں آتی لیکن چمن بارڈرسے لیکر بلیلی تک لوگوں کو جس طرح بے عزت کیا جاتا ہے وہ سب کے سامنے ہے ہم سے سوتیلی ماں کا سلوک کیوں روا رکھا جارہا ہے ہم یہ سب برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی چمن کے لوگوں کے 15مارچ سے قبل کی بارڈر صورتحال کو بحال کرنے،شناختی کارڈ دیکھ کر آمدورفت کی اجازت دینے،پرمٹ سسٹم کے خاتمے کی حمایت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ ان مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے آنے والوں کا تذکرہ یا شناختی کارڈ دیکھاجائے اگر کوئی مشکوک ہے تو اس سے تفتیش بھی کی جائے دہشت گرد جن راستوں سے آتے ہیں وہ سب کو معلوم ہیں ہم نے اس ملک کی خاطرپہلے بھی انگریز کے خلاف الم بغاوت بلند کیاجتنا یہ ملک کسی اور کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے ہم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے جمہوری حکومتوں کے قیام اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف لڑائی لڑی جیلیں کاٹیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چلانے کا واحد ذریعہ آئین کی بالادستی،عوام کے ووٹوں سے منتخب پارلیمنٹ ہے جو داخلہ اور خارجہ پالیسی بنائے ساتھ ہی تمام ادارے منتخب جمہوری حکومت کے تابع ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام جماعتوں نے مصلحت پسندی سے کام لیتے ہوئے ملک اوراقتدار کو میوزیکل چیئربنادیا ہے اسلام آباد میں ہونے والی اے پی سی بھی ایسی ہی میوزیکل چیئر بنتی نظرآرہی ہے جس اے پی سی کے ایجنڈے میں آئین کی بالادستی نہیں ہوگی پشتونخواملی عوامی پارٹی اسے تسلیم نہیں کرتی میں اے پی سی پر محتاط ہوں اگر مولانا فضل الرحمن میری بات مانیں تو میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ اے پی سی میں نہ جائیں ملک میں میوزیکل چیئر بناکر سیاستدانوں کو بدنام کیا جارہا ہے موجودہ نظام ڈوبنے والا ہے یہ نہیں چل سکتا جہاں انصاف کے بنیادی اصول کونظر انداز کیا جائے وہ نظام کسی صورت نہیں چل سکتاملک میں سول اتھارٹی ختم ہوچکی ہے اگر کسی کو میری شکل پسند نہیں تو وہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی کو یقینی بنانے اورپارلیمنٹ کوطاقت کا سرچشمہ قراردیدیں میں سیاست سے دستبردار ہوجاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ عمران خان نہیں غیر آئینی حکمرانی سیاست میں افواج پاکستان اور جاسوسی اداروں کی مداخلت ہے ہمیں ملک لوگوں سے پیار ا ہے قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں پاکستان کو آج تک انہی کھوٹے سکوں سے چلایا جارہا ہے وزیراعلیٰ بلوچستان کے سمیت ملک میں ایسے خاندان ہیں جو آج تک ایک دن بھی اقتدار سے باہر نہیں رہے آج پاکستان میں وفاداریاں خریدی جارہی ہیں مسلح گروہ اور سیاسی جماعتیں بنائی جارہی ہیں
ہم اداروں کے خلاف نہیں ہم کہتے ہیں کہ ملک کومضبوط کرنے کیلئے ہمیں اداروں کو بہتر کرنا ہوگا لیکن ان سے گزارش ہے کہ آگ سے نہ کھیلیں اپنے ملک اورلوگوں کا مستقبل برباد نہ کریں یہ ملک آئین کی بالادستی کے بغیر نہیں چل سکتاجب تک ہرادارہ اپنے دائرہ میں رہ کر کام نہیں کرے گا ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا ہمیں ایک دوسرے کو گرانابند کرنا ہوگا سوات سے لیکر وزیرستان تک جو کھیل کھیلا گیا اسکا نتیجہ پی ٹی ایم کی صورت میں سامنے آیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ پشتون قوم کا اپنا ایک صوبہ اور اسمبلی ہونی چاہئے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن اداروں کی پیدا کردہ ہے ادارے لوگوں کوخرید کر انہیں اقتدارمیں لاتے ہیں اور بعدمیں بلیک میل کرتے ہیں
حاضر سرو س آفیسر نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ایک جماعت انہوں نے بنائی اور سیاستدانوں،ٹھیکیداروں کے ذریعے منڈی لگاکر ہماری جمہوری منتخب حکومت گرائی چیئرمین سینٹ کے انتخاب اور تحریک عدم اعتماد میں جو کچھ ہوا و ہ سب کے سامنے ہے 20سال پہلے پلاٹ لینے والا میرشکیل الرحمن کرپٹ جبکہ سینٹ انتخابات میں 70کروڑ روپے خرچ کرنے والا ایماندار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نواز شریف اورانکی بیٹی سمیت چند افراد کے علاوہ تمام پھسل گئے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک کسی بڑے حادثے کا شکار ہوجائے
پشتونخوامیپ پاکستان کو توڑنا نہیں چاہتی لیکن ہم دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری بننے کیلئے تیار نہیں ہیں میری وزیراعظم،چیف آف آرمی سٹاف سمیت دیگر حکام سے گزارش ہے کہ پاکستان افغانستان میں جاری مذاکرات میں مثبت کردار ادا کرے تو وہاں امن آسکتا ہے اور افغانستان میں مداخلت روک دی جائے تو وہ ہمارا بہترین رفیق بن سکتا ہے ایران اور پاکستان دونوں سے گزارش ہے کہ وہ شعلوں سے نہ کھیلیں افغانستان کی سالمیت جغرافیہ میں گڑبڑ نہ کرنے اور عوام کی حکومت قائم کریں میں پاکستان کی سالمیت کا مرتے دم تک دفاع کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم ختم کرنے سے لوگ نئے آئین کی بات کریں گے آج ہر ادارے میں ریٹائرڈ فوجی بیٹھا ہوا ہے یہ سب کرنے سے ملک کے برے دن آسکتے ہیں پولیس کے پاس تمام تر سماج دشمن عناصرکا ریکارڈ موجود ہوتا ہے لیکن پھر بھی ایف سی کے حوالے کرکے صوبے کے سسٹم کو خراب کیا جارہا ہے اگر پولیس اتنی ہی ناکام ہے توعمران خان اسے ختم کرنے کا اعلان کردیں۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت امدادی رقم کی تقسیم میں بلوچستان کو یکسرنظرانداز کیا گیا
ایک سوال ے جواب میں انہوں نے کہا کہ لانگو اچھے لوگ ہیں مجھے بہت عزیز بھی ہیں ایک لانگو کو کہا گیا کہ آپ بول دیں کہ یہ پیسہ فلاں تین آدمیوں کاہے تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے لیکن اس نے نہیں کہا جس کی وجہ سے اس لانگو کونکال کر دوسرے لانگو کو لایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصرہر جگہ پر ہوتے ہیں لیکن اسکی وجہ سے دوسرے لوگوں کے حقوق سلب نہ کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن سے رحم کی امید رکھنا بے وقوفی ہے ہم کیوں مداخلت کرنے کے بعد کسی اور سے گلہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے خلاف استعمال نہ ہوں اگر حالات یہی رہے تو صورتحال ابتر ہوگی اور دوسرے لوگ آپ کے خلاف استعمال ہوتے رہیں گے اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ فوج کے سایے میں قابض ہوسکتے ہیں تو یہ انکی خام خیالی ہے ملک کی تعمیر نو کرکے جمہوری انصاف کے پاکستان کی بنیاد رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی حفاظتی کٹس مہیا نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے ڈاکٹر اور صحت عملہ وائرس کا شکار ہوا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ حفاظتی کٹس کی فراہمی کو یقینی بنائے


