بداعتمادی انتہا کوپہنچ چکی،بارڈر کھولنے کے اعلان کے باوجود سرحد کی بندش کی تحقیقات کی جائے،اصغرخان اچکزئی

کوئٹہ؛عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر وصوبائی صدر اصغرخان اچکزئی نے کہاہے کہ پشتونخوا وطن میں ا عوام اور فورسز کے درمیان بداعتمادی انتہا کوپہنچ گئی ہے،مل بیٹھ کرمعاملات حل کرنے کے بعد ایسی صورتحال پیدا کردی اور بیانات جاری کرکے زخموں پرنمک پاشی کی گئی،ریاست اور حکومت کی جانب سے افسوسناک واقعہ کے باوجود غیرسنجیدگی کامظاہرہ کیاجارہاہے،واقعہ میں ملوث تمام گناہ گاروں کو سزا ملنی چاہیے،جذبہ خیرسگالی کے تحت بارڈرکھولنے کے اعلان کے باوجود بارڈر کیوں بند کیا گیا اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اصغرخان اچکزئی نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ پرامن بارڈروبھائی چارے کا بارڈر کو جنگ میں تبدیل کردیااور بداعتمادی پیدا کردی گئی جہاں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، اپنے اولس اور فورسز کے درمیان بداعتمادی انتہا کوپہنچ گئی ہے،بے روزگاری بڑھ گئی ہے،روزگار نہیں ہے،24گھنٹوں سے ٹینشن چلاآرہاہے کسی کو بھی معلوم نہیں،صوبائی وزیر داخلہ اور دیگر آئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مل بیٹھ کر بات ہوئی،واپسی کے بعد دوبارہ ایسی صورتحال پیدا کرکے لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی کی گئی،اتنا بڑاواقعہ ہونے کے باوجود حکومت اور ریاست کی جانب سے غیر سنجیدگی کامظاہرہ کیاجارہاہے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت یا ریاست بارڈر کو مستقل طورپربند کرناچاہتے ہیں تواس کامتبادل کیاہے گزشتہ 6ماہ میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا اگر بارڈر بند کرنے کاارادہ تھا تو اس کیلئے کوئی لائحہ طے کرلیا جاتا،لوگ دوسرے کاروبار شروع کرلیتے،صوبائی وزیر داخلہ نے معاملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ ہر گناہ گار کو سزا دی جائے،خیر سگالی کااعلان کیا گیا اسلام آباد،کراچی لاہور سے ہزاروں افغانی بھائی بارڈر پہنچ گئے جبکہ دوسری جانب افغانستان میں میلوں دور علاقوں سے پاکستانی بارڈر کے اس پار پہنچ گئے کہ بارڈر دروازہ کھلے گالیکن پھر دروازہ بند کردیا گیاپہلے اس بات کا تعین کیاجائے کہ اعلان کے باوجود دروازہ کیوں نہیں کھولا گیا دیگر معاملات کہ کس نے آگ لگائی اور کس نے فائرنگ کی بعد میں دیکھاجائے،یہاں اعلان کیاگیاکہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاجائیگا،افغانستان حکومت کے ساتھ بات چیت کے بعد پیدل آمدورفت شروع کیاجائیگا،عام اولس سے کئے گئے وعدوں اور اعلانات پرعملدرآمد کرایاجائے،انہوں نے کہاکہ اعتماد ختم ہوگیا دونوں اطراف میں قبائلی شخصیات کو ایسے متازعہ بنادیا گیاکہ اب ایک شخص کو دوسرے شخص پر اعتماد نہیں،میں افغان حکومت خصوصاََ تادین خان کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ انہوں نے معاملے کوکنٹرول کیا ریاست کی جانب سے کردار کیلئے درخواست ادا کی گئی،ہم نے گفتگو کی گئی،انتہائی خطرناک صورتحال سے ہم بچ گئے،بارڈر لازمی کھولناچاہیے،فلیگ میٹنگ میں تعلقات خوشگوار ہوں اور بارڈر پیدل آمدورفت کیلئے کھولاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں