کشمیرکامسئلہ تقریروں،دھرنوں اورریلیوں سے حل نہیں ہوگا، کبیر محمدشہی
نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر وسینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے کہاہے کہ کشمیرکامسئلہ تقریروں،دھرنوں،ریلیوں اور مساجد کے سامنے خاموشی اختیار کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگابلکہ اس کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے،73سالوں سے کشمیر میں جو ظلم،بربریت اور ناانصافی جاری ہے بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی ہورہی ہے نیشنل پارٹی کشمیر کی آزادی اور خود ارادیت کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں،ان خیالات کااظہار انہوں نے ایوان بالا میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیاسینیٹرمیرکبیراحمدمحمدشہی نے کہاکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ گزشتہ 73سالوں سے کشمیر میں جو ظلم،بربریت اور ناانصافی جاری ہے بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی ہورہی ہے نیشنل پارٹی کشمیر کی آزادی اور خود ارادیت کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں،سینیٹرز نے تقریریں کی لیکن انہوں نے اپنی خامیوں اورکمزوریوں کی نشاندہی کی ضرورت ہے،جمعہ کوپانچ منٹ باہرنکلتے ہیں اور پاکستان کے نقشے میں کشمیر کوڈالتے ہیں یا ایک بورڈ لگاتے ہیں کہ کشمیر اتنے دنوں سے بند ہے کیا ان چیزوں سے کشمیر کو آزاد یا لوگوں کوریلیف دی جاسکتی ہے،انہوں نے کہاکہ 73سالوں سے کشمیرمیں ظلم وبربریت کا دور چلا آرہاہے لیکن موجودہ دور حکومت میں دوبڑی تبدیلیاں ہوئی جس میں آرٹیکل 35Aاور آرٹیکل 370 ہے یہ بہت بڑی تبدیلی ہے،سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے کشمیر سے متعلق کیا کیاہے سوائے وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی تقریرکے کیا وزیراعظم نے کسی ملک کادورہ کیا اور ان سے بات کی،اگر ہم 25سے 30سال پیچھے چلے جائیں تو بہت سے مسلم ممالک پاکستان کوفالو کرتے تھے آج ہماری فارن پالیسی کا یہ حال ہے کہ ترکی اور ملائیشیا نے سخت اقدام اٹھائے بنسبت پاکستان کے،انہوں نے کہاکہ یو اے ای کے بھارت میں سفیر کا بیان جس میں انہوں نے واضح طورپر بھارت کے 370سے متعلق اقدام کو سراہا آج مسلم امہ بھارت کے ساتھ ہے انہوں نے سوال اٹھایاکہ وزیراعظم،وزیر داخلہ اور وزارت خارجہ کی دفاتر کیا کررہے ہیں ریلیاں،مظاہرے اور ایک بورڈ لگانے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا اور نہ ہی ظلم وبربریت روکے گا،کشمیر کانفرنس میں وزیراعظم نے ایک خوبصورت بات کہی تھی کہ ہر صبح کشمیری عورتیں اپنی کھڑکیاں کھول کردیکھتے ہیں کہ پاکستانی ان کی مدد کیلئے آئے یا نہیں،تقریریوں،دھرنوں،ریلیوں اور مساجد کے سامنے خاموشی اختیار کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگابلکہ اس کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔


