افغانستان،صوبائی کونسل کے سابق رکن کی گاڑی پر بم حملہ، 3افراد ہلاک، 2زخمی

افغانستان میں صوبائی کونسل کے سابق رکن کی گاڑی پر بم حملے میں 3افراد ہلاک اور 2زخمی ہوگئے جبکہ طالبان کے اجتماع پر جنگی طیاروں کے حملے میں 4عسکریت پسند ہلاک اور 7زخمی ہوگئے،افغان سیکورٹی فورسز نے مشرقی صوبہ کنڑ میں جلال آباد جیل حملے میں ملوث داعش کے اعلی کمانڈر کو گرفتار کر لیا۔ بدھ کو افغانستان کے شمالی صوبے بغلان کے صدر مقام پل خمری میں سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں 3 افراد ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے،یہ بات صوبائی حکومت کے ترجمان نذیر نجم نے بتائی۔حکام کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے پل خمری شہر کے چشمہ شیر کے علاقے میں نصب کردہ بارودی سرنگ سے بدھ کی دوپہر ایک بجے کے قریب صوبائی کونسل کے سابق رکن محبوب اللہ غفاری کی گاڑی ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں اس کے تین محافظ ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔حکام نے مزید بتایا کہ غفاری اس حملے میں محفوظ رہے تاہم غفاری کے ایک رشتہ دار ذبیح اللہ رستمی نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔طالبان عسکریت پسندوں جو کہ اس علاقے کے کئی حصوں پر قابو رکھتے ہیں نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ادھر افغانستان کے شمالی صوبہ فریاب کے ضلع دولت آباد میں جنگی جہازوں کے طالبان کے اجتماع پر حملے میں 4عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ شمالی علا قہ میں فوج کے ترجمان محمد حنیف رزائی نے بدھ کے روز بتا یا ہے۔رزائی نے بتایا کہ طالبان باغیوں کا ایک گروہ منگل کو سکیورٹی چوکیوں پر حملہ کرنے کیلئے شورش زدہ ضلع دولت آباد کے علاقہ شاشپر میں جمع تھالیکن سکیورٹی فورسز کے جنگی جہازوں نے منگل کی سہ پہرعسکریت پسندوں کے اجتماع پر قبل ازوقت جارحانہ حملہ کردیا جس میں 4ہلاک جبکہ 7 دیگرزخمی ہوگئے۔دوسری جانب افغان خصوصی فورسز کے دستوں نے مشرقی صوبہ کنڑ میں سخت گیر دولت اسلامیہ(داعش) گروہ کے اعلی کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ بات فوج نے جاری ہونیوالے ایک بیان میں بتائی گئی۔بیان کے مطابق خصوصی فورسز کے دستوں نے منگل کی رات پر ضلع چوکے کے گاں بابر میں ایک خصوصی کارروائی کی جو سخت گیر داعش تنظیم کے کلیدی کمانڈر خان سید کی گرفتاری تک کچھ دیرکیلئے جاری رہی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شخص غیر ملکی عسکریت پسندوں اور ان کے اہل خانہ کو افغانستان کے مختلف علاقوں میں منتقل کرنے کا سربراہ تھا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ خان سید کنڑ کے ہمسایہ صوبہ ننگر ہار کے دارالحکومت جلال آباد شہر میں ایک جیل پر حالیہ مہلک حملے کو منظم کرنے میں بھی ملوث تھا۔اتوار سے پیر تک جاری رہنے والے جلال آباد مرکزی جیل حملہ جس کی ذمہ داری سخت گیر تنظیم داعش نے قبول کی ہے میں 8 حملہ آوروں سمیت 37 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور 300 کے قریب قیدی فرار ہو گئے ہیں۔اعلی کمانڈر کی گرفتاری پچھلے 2 ہفتوں کے دوران افغانستان میں سخت گیر گروہ کیلئے دوسرا دھچکا ہے۔افغان فورسز نے گزشتہ ہفتے جلال آباد شہر کے باہر اسی طرح کی کارروائی میں داعش تنظیم کے افغانستان کیلئے نام نہاد خفیہ شعبے سربراہ اسد اللہ اورکزئی کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔داعش تنظیم نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں