حکومت نے سرکاری ملازمین کو نظرانداز کردیا ہے، مطالبات منظور کئے جائیں، گرینڈ الائنس

کوئٹہ؛بلوچستان ایمپلاء اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے کنوینئر عبدالمالک کاکڑ نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے حقوق کے حصول اور مطالبات کی منظوری کیلئے ”بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس“ تشکیل دیدیا گیا ہے جس میں صوبے کے تمام سرکاری ملازمین کی تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ بات انہوں نے پیر کو سیکرٹری داد محمد بلوچ،پروفیسرآغا زاہد، ڈاکٹر یاسر خان اچکزئی،قاسم خان کاکڑکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پرحبیب الرحمن مردانزئی،انجینئر ابراہیم زہری، علی بخش جمالی، عابد بٹ، شکر خان رئیسانی،شمس خان اوردیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس بات کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے کہ بلوچستان کے ملازمین کی ایک نمائندہ اور مشترکہ پلیٹ فارم موجود ہو جہاں سے مشترکہ مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کی جائے تاہم موجودہ دور حکومت میں ملازمین کے ساتھ روا رکھی گئی پالیسیوں اور مسائل میں غیر معمولی اضافے کے بعد مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت مزیدبڑھ گئی تھی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے صوبے کی نمائندہ ایسوسی ایشنزاور یونینز نے بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس تشکیل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی تشکیل دیدیا گیا ہے اس سلسلے میں گرینڈ الائنس کی ایگزیکٹو کونسل بنائی گئی ہے گرنیڈ الائنس میں شامل ہر تنظیم کا صدر یا جنرل سیکرٹری اتحاد کی اس سپریم کونسل کا ممبر ہوگا اس طرح ایگزیکٹو کونسل نے گرینڈ الائنس کے تنظیمی امور کو چلانے کیلئے 15ارکان پر مشتمل ایکشن کمیٹی قائم کی ہے جس کا کنوینئر بلوچستان سول سیکرٹریٹ آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک کاکڑکو منتخب کیا گیا ہے جبکہ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ کو سیکرٹری،بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدرپروفیسرآغا زاہد اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹریاسرخان اچکزۂی کو ترجمان اور سیسا کے صدرقاسم خان کاکڑ کو سیکرٹری فنانس منتخب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ابتک بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے متعدداجلاس منعقد ہوئے ہیں جس میں ملازمین کی پنشن، سالانہ انکریمنٹ،سرکاری ملازمین کی عمر 60سال کی بجائے 55سال میں ریٹائرمنٹ،صوبائی ملازمین کے بینولنٹ فنڈز کے نوٹیفکیشن کے اجراء میں بلاجواز تاخیر،سرکاری ملامین کے لواحقین کے کوٹہ کے دیرینہ مسئلہ، ملازمین کی تنخواہوں اورالاونسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ،ملازمین کیلئے ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجراء صوبے کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی،بی ایم سی ایکٹ،62یونینز پر پابندی اورلازمی تعلیمی ایکٹ سمیت صوبے میں ملازمین کی آواز کو دبانے اورانکے بنیادی حقوق سلب ہونے،صوبے کے مختلف محکموں میں ملازمین کی اپ گریڈیشن پر تفصیلی بحث و مباحثہ کیا گیا اور مختلف فیصلے کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ گرینڈ الائنس میں شامل تنظیمیں اس مشترکہ چارٹر آف ڈیمانڈ کے ساتھ آگے بڑھیں گی اور ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے ہرممکن جدوجہد کریں گی۔انہوں نے کہا کہ بینولینٹ فنڈ کی ریٹائرمنٹ پر یکمشت ادائیگی کے حوالے سے وزیراعلیٰ،صوبائی وزراء اوردیگر حکام سے ملاقاتیں کرکے اپنے مطالبات سامنے رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین امورمملکت چلانے میں اہم کردارادا کرتے ہیں لیکن اسوقت بدقسمتی سے سرکاری ملازمین کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے اور حکومت نے اس اہم طبقے کو مکمل طور پرنظرانداز کردیا ہے جس کا اندازہ رواں مالی سال کے بجٹ میں ملازمین کے لئے کسی قسم کے خصوصی پیکج،تنخواہوں میں اضافے اور مراعات کا اعلان نہ کرنا اورانہیں مکمل طور پرنظرانداز کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائے بصور ت دیگر ہم اپنے مطالبات کے سلسلے میں احتجا ج پر مجبور ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں