جام کمال ناکام،محمود خان اچکزئی نے کہا ن لیگ جوائن کروسینیٹر بنائیں گے،نواب باروزئی

کوئٹہ :سابق وزیراعلی بلوچستان و چیف ا ٓف پنی نواب غوث بخش باروزئی نے کہا ہے کہ سی پیک سے بلوچستان میں کچھ حد تک تبدیلی رونما ہوگی پاکستان پیپلز پارٹی،پاکستان مسلم لیگ(ن)اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو میرا چہرا پسند نہیں تھا بلوچستان حکومت ہاتھ مروڑ کر کام کرنے کے اسٹائل کی عادی ہے وزیراعلی جام کمال اصل ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے بلکہ صوبائی حکومت میں شامل لوگ آپس میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا ہوا ہے میرے حلقے میں ایک قوم پرست پارٹی کے وزیر نے ڈی جی کی تعیناتی کیلئے ایک کروڑ روپے وصول کئے ہیں بحیثیت وزیراعلی 2013میں بلوچستان کے مخدوش صورتحال کے باوجود الیکشن کروایا خان آف قلات سمیت تمام بلوچوں سے مذاکرات ہونے چاہیں ان خیالات کااظہارانہوں نے آن لائن سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ان کے والد پیپلز پارٹی میں تھے جبکہ وہ خود کسی پارٹی کا حصہ نہیں پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ن اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کو میرا چہرا پسند نہیں تھا جب مجھے بلوچستان کی خدمت کا موقع ملا اوروزیراعلی بن کر بلوچستان میں سنگین صورتحال کے باوجود الیکشن کرانے میں کامیاب ہو انہوں نے کہاکہ2012 میں صدر زرداری سے ملاقات میں ان سے کہا تھا کہ پیپلزپارٹی بلوچستان میں گراونڈ زیرو بن چکی ہے۔ آنے والے 2013 کے انتخابات میں کوئی سیٹ نہیں جیت سکے گی۔ ایسے ہی ہوا۔ 2018 میں بھی پارٹی کا وہی حال رہا۔ ان کو میری اہمیت ہی محسوس نہ ہوئی۔ نواز شریف کو 2013 یوم تکبر کے موقع پر کہا کہ سیاسی آوارہ گردوں سے پرہیز کریں اور اپنی پارٹی اور اقتدار کے طویل تجربے سے اپنی تیسری باری میں اپنی اور ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں آپ جلد ہی مسائل میں گھر جائیں گے۔ ان میری باتیں بھری محفل میں پسند نہیں آئیں۔ ایک سال میں وہ مسائل میں پھنس گئے۔ 2015 میں الیکشن دھاندلی کے سلسلے میں بنے جوڈیشل کمیشن میں گواہی کے موقع پر مجھے عمران خان نے کہا واقعی بلوچ بہت سچ بولتے ہیں۔ میں نے کہا خان صاحب بدقسمتی سے میں بلوچ نہیں پشتون ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پشتون بھی سچ بولتے ہیں۔ ان کے بھی کسی کام کا نہیں تھا۔محمود خان اچکزئی سے ایک معاملے پر بات ہوئی انہوں نے فرمایا کہ مسلم لیگ ن جوائن کرلیں آپ کو سینیٹر بنائیں گے میں نے کہا سینیٹر تو آپ بھی بنا سکتے ہو اپنی پارٹی کا کیوں نہیں کہتے۔ا نہوں نے الزام عائد کیا کہ میرے حلقے میں ایک قوم پرست پارٹی کے وزیرنے ڈی جی کی تعیناتی کیلئے ایک کروڑ روپے وصول کئے ہیں پسماندہ بلوچستان میں لوٹ مار کا سلسلہ صوبے کی تباہی کا موجب بنے گابلوچستان حکومت ہاتھ مروڑ کر کام کرنے کے اسٹائل کی عادی ہے وزیراعلی جام کمال اصل ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے بلکہ صوبائی حکومت میں شامل لوگ آپس میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم رکھا ہوا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں