بحیرہ روم گیس ذخائر تنازعہ، فرانس کا مزید فوج تعینات کرنے کا اعلان
فرانس نے بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے توانائی کے ذخائر کی تلاش کے خلاف نئے اقدامات کے تحت علاقے میں تعینات اپنی فوج میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے گزشتہ روز یونانی وزیراعظم کائریاکوس مٹسوٹاکس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کی جانب سے متنازعہ پانیوں میں توانائی کے ذخائر تلاش کرنے سے ماحول کشیدگی کا شکار ہے اس لیے وہ علاقے میں تعینات اپنی فوج میں مزید اضافہ کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن بات چیت کے لیے ترکی کو متنازعہ علاقوں میں گیس کی دریافت کا عمل فوری طور پر روک دینا چاہیے جس سے یونان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ فرانس خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے تحت عارضی طور پر اپنی فوج کو تعینات کرے گا۔ صدر ایمانوئیل نے ترکی کی جانب سے گیس کی دریافت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو یونان کے ساتھ امن بات چیت کے لیے اس عمل کو روک دینا چاہیے۔ واضح رہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں تیل اورگیس سے مالا مال بعض قدرتی ذخائر ہیں جس پر یونان، ترکی اور قبرص دعوی کر رہے ہیں۔ ترکی نے حال ہی میں اسی علاقے میں گیس کی دریافت کے لیے ایک سمندری جہاز بھیجا تھا جس سے یونان اور ترکی میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ یورپی یونین کے رکن ملک قبرص نے جب اس علاقے میں پہلی بار گیس دریافت کرنے کا آغاز کیا تھا تو ترکی نے بھی اس پر عتراض کیا تھا اور تب یہ معاملہ یورپی یونین کے سامنے لایا گیا تھا۔


