ایک آپریشن کے دوران ہم احسان اللہ احسان کو استعمال کررہے تھے وہ وہاں سے فرار ہوگیا ،ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی(ۛپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو پاک افواج اور عوام میں خلاء پیدا نہیں کرنے دینگے ،بھارت500رافیل طیارے بھی خریدلے،ہم محدود وسائل کیساتھ اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں ،کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ناکام حملہ ہو یا دہشت گردوں کیلئے منی لانڈرنگ ،ان تمام کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں،کلبھوشن کے معاملے پر عالمی قوانین کی پاسداری کررہے ہیں ،کورونا وباء کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سیز فائر کی اپیل کے باوجود بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی)پر اپنی روایتی کارروائیاں جاری رکھیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا،دنیا کا ہر ظلم کشمیریوں پر آزمایا جا رہا ہے وہاں گزشتہ ایک سال سے کرفیو نافذ ہے، پیلٹ گنز کا استعمال معمول بن گیا ہے لیکن تمام مظالم کے باوجود کشمیری آزادی کیلئے ڈٹے ہوئے ہیں۔راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امسال اب تک بھارت نے ایک ہزار 927 مرتبہ سیز فائر معاہدے کے خلاف ورزی کی۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے نسل کشی اور مقبوضہ (خطے)میں انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پہلے سے طے شدہ ، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خطے کی آبادی کو تبدیل کرکے بھارت وہاں رہنے والے مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی ایسا کوئی ظلم باقی نہیں رہا جس کا کشمیریوں نے برداشت نہ کیا ہو، نوجوانوں کو شہید اور انسداد دہشت گردی کے نام پر نامعلوم مقامات پر دفن کیا جارہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جاری ہیں۔میجر جنرل افتخاربابر نے کہا کہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورموں پر حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا اور دنیا بھر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے اقدامات کو بے نقاب کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کشمیر میں انسانی حقوق پر زور دیا ہے۔انہوں نے نیوز بریفنگ کے دوران مسئلہ کشمیر، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، افغان امن عمل، آپریشن ردالفساد و دیگر معاملات پر بات کی۔آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں ان ماں سے آزادی کی اہمیت کے بارے میں پوچھیں جو اپنے بیٹے کو پاکستان کے پرچم سے دفن کرتی ہیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کے سامنے کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے میں ‘کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مختلف آپریشنز اور بارڈر منیجمنٹ کے ذریعے قبائلی علاقوں میں امن قائم ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی میڈیا نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بہترین کردار ادا کیا ہے۔صوبہ بلوچستان سے متعلق انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ عرصے سے ملک دشمن قوتیں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے در پر ہیں لیکن پاکستان کے سکیورٹی ادارے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بہت اہم پیش رفت ہوئی ہے جو مناسب وقت پر آپ کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت بلوچستان کے امن کے ساتھ ساتھ صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے مصروف عمل ہے، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اور خوشحال بلوچستان ایک مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔میجر جنرل بابر افتخار نے افغان امن عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن ہوگا تو پاکستان میں امن ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ناکام حملہ ہو یا دہشت گردوں کے لیے منی لانڈرنگ ان تمام کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار اور اس کے بعد ویڈیو پیغام سے متعلق سوال پر کہا کہ ویڈیو کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے تصدیق کی کہ ہم ایک آپریشن کے دوران احسان اللہ احسان کو استعمال کررہے تھے اور وہ وہاں سے فرار ہوگیا تھاجبکہ اس نے جتنی بھی معلومات دیں وہ دہشت گرد تنظیموں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے کیلئے بہت کام آئیں۔ ان کا کہنا تھا اگرچہ احسان اللہ احسان نے پاک فوج کو مفید معلومات دیں اور ان کی مدد سے دہشت گرد تنظیموں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے میں بھی بہت مدد ملی مگر اس کے دعوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے فرانس سے پانچ رافیل طیارے خریدے ہیں اور وہ جنگی جنون میں مبتلاء ہو کر اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے اگروہ 500 رافیل طیارے بھی خرید لے تو بھی پاک افواج اپنے محدود وسائل کے باوجود اس کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے ۔انہوں نے کہاکہ کلبھوشن کے معاملے پر ہم عالمی قوانین پر عمل پیرا ہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کا دورہ سعودی عرب پہلے سے طے شدہ تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات پر سوال اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں ،سعودی عرب سے بہترین تعلقات ہیں اور رہیں گے اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے#/s#


