آئین کی پاسداری کئے بغیر ملک کا نظا م ٹھیک کرنا نا ممکن ہے،چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ
کوئٹہۛ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ آئین کی پاسداری کئے بغیر ملک کا نظا م ٹھیک کرنا نا ممکن ہے، ملک کے کرتا دھرتائوں کو مسائل حل کرنے کے لئے سرجو ڑ کربیٹھنے اور ملک کے لئے پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ہم نے آزادی کا حق ادا نہیں کیا آج کے دن ملک کا ہر ادارہ قوم کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے جوابدہ ہے آج جنہیں غدار کہا جارہا ہے کل وہ برسراقتدا ر ہوتے ہیں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ آئین پر عملدآمد کرنا ہے تبدیلی جھنڈے اٹھانے سے نہیں بلکہ عوام کو ڈیلیور کرنے سے آئے گی ۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کو بلوچستان ہائی کورٹ میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز سمیت وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی ، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ملک میں دو طبقے ہیں ایک وہ جو کہتے ہیں کہ آئین بالادست ہے دوسرا وہ جو آئین کو کاغذ کا ٹکرا تصور کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر آئین نہیں ہوگا توملک میں کوئی نظام نہیں ہوگا ہم نے آئین اور عوام کو ہمیشہ ردی کی ٹوکری کا حصہ بنایا ارکان پارلیمنٹ سے پوچھا جائے کہ کیا وہ آئین کا مطالعہ اور تیاری کے ساتھ اسمبلی اجلاسوں میں آتے ہیں اسمبلی میں آئین و قانون سازی کی بات نہیں ہوتی ہم آئین سے ہٹ کر چل رہے ہیں جب تک آئین کی پاسداری نہیں ہوگی ہم پستی کی طرف جائیں گے انہوں نے کہا کہ کیا ارکان پارلیمنٹ کا کام سڑکیں اور نالیاں بنانا ہے سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے کتنے قوانین پاس کئے لیکن سب فنڈز کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کیااس ملک نے ہمیں کچھ نہیں دیا جو ہم اسکی بنیادوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر نچلی سطح سے بنتے اور قوم کی ذہن سازی کرتے ہیں لیکن ہمیں نہیں پتا ہمارے لیڈر کہاں سے آتے ہیں راتوں رات لیڈر بن جاتاہ ے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ہمیں پالیسیاں دینی ہونگی ، انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا ہم سے پیچھے تھا لیکن آج وہ ہم سے کئی گنا زیادہ ترقی یافتہ ہے میں ملک کے کرتا دھرتائوں سے کہتا ہوں کہ اپنی ذات سے نکلیں باقیوں کو بھی تسلیم کریں سب محب وطن ہیں ہم کیوں لوگوں کوناراض کرتے ہیں لوگوں کو مار کر مسائل حل نہیں ہونگے مسائل شفقت سے حل ہونگے ہمیں سب کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدآمد نہیں ہوا کیا ہمارے آئینی ادارے فعال ہیں ؟2017میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج آج تک جاری نہیں کئے گئے دریں اثناء ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ نے ہمیں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ تم سے پہلی قوموں کی تباہی کی اصل وجہ یہی تھی کہ جب ان کے بااثر لوگ قانون شکنی کرتے تھے تو ان کے سامنے عام لوگوں کے لیے انصاف کا معیار مختلف ہوتا تھا بس میرے ہم وطنوں/ آج اس ملک میں جب اہل حکم و اقتدار آئین و قانون سے انحراف کی سوچ رکھتے ہوئے اپنے آپ کو کسی ضابطے کا پابند نہ سمجھیں تو یاد رکھیں نبی آخرالزماں کا کہا پتھر پر لکیر ہے جو زمین کی بساط پلٹنے سے پہلے ضرور پورا ہوگا آئیے آج کے دن اس محاسبے کا عہد کریں کہ کیا میں خود بحیثیت چیف جسٹس اور ہمارا ادارہ اپنے فرائض کما حقہ ہو ادا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ کیا عوام کے منتخب نمائندے آئین کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کیا سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں نے اٹھارویں ترمیم کے بعد ضروری قانون سازی کا عمل مکمل کیا ہے ؟کیا ہم نے آئین کو وہ مقام دیاجس کا وہ حقدار ہے ؟کیا 1947 سے لے کر آج تک ہم اداروں کو آئین و قوانین کے مطابق چلا پاے؟ کیا عوام کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے قومی اداروں کی پالیسیاں عوامی مفاد کے تسلسل میں ہیں؟ کیا اہل حکم آئین میں درج حدود کی پاسداری کا دعوی کر سکتے ہیں؟ میں یہ تمام سوالات آئندہ یوم آزادی تک آپ پر چھوڑ رہا ہوں آئیے ہم سب عہد کریں کہ آئندہ یوم آزادی کے اجتماع کے موقع پر ہم سب ان تمام سوالات کے جوابات دینے کے اہل ہوگے۔


