سائرہ حسن کا خضدار سے ارجنٹینا تک کا سفر
تحریر: یحییٰ ریکی
سائرہ حسن ساسولی کا خواب بلوچستان کے ضلع خضدار کے ایک چھوٹے سے شہر کی گلیوں سے شروع ہوتاہوا دنیا کے دوسرے کنارے تک جا پہنچا۔ ایک ایسا سپنا جو کبھی تختے والی بلیک بورڈپر چاک کی گردوغبارسے بھری کلاس روم سے شروع ہوا، آج ریکوڈک کی سرزمین پر ایک روشن مستقبل کی صورت میں پروان چڑھ رہا ہے۔
سائرہ، پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر ہیں، بتاتی ہیں: ”جب مجھے بتایا گیا کہ میں انٹرنیشنل گریجویٹ ڈویلپمنٹ پروگرام (IGDP) کے لیے منتخب ہو گئی ہوں، تو میرا دل خوشی سے بھر آیا۔ میں نے فوراً اپنے والدین کو یہ خوش خبری سنائی ، اور یہ سن کران کے چہرے پرجومسکراہٹ اورفخرتھا، وہ میرے لیے سب سے بڑی کامیابی تھی۔“
انٹرنیشنل گریجویٹ ڈویلپمنٹ پروگرام، بیرک مائننگ کارپوریشن اور ریکوڈک مائننگ کمپنی (RDMC) کی مشترکہ کاوشوں سے شروع کیاگیا ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے نوجوان انجینئرنگ گریجویٹس کو دورجدیدکے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کیلئے انہیںعالمی معیار کے مطابق تربیت دینا ہے۔ سائرہ ان9 خوش نصیب نوجوانوں انجینئروں کے پہلے بیچ میں شامل تھیں جنہیں 2023میں ارجنٹینا کی مشہور ویلاڈیرو مائن میں آن جاب ٹریننگ کے لیے بھیجا گیاتھا۔
ارجنٹینا پہنچنے سے قبل سائرہ نے اسپینش زبان سیکھنے کے لیے خصوصی کلاسز لیں اور ان کلاسز کااہتمام ریکوڈک مائننگ کمپنی کی جانب سے کیاگیاتھا۔ سائرہ بتاتی ہیں کہ ”شروع میں تو مجھے ہر لفظ اجنبی لگتا تھا، مگر ایک دو مہینے گزارنے کے بعد میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بات چیت کرپائی۔“
سائرہ نے آہستہ آہستہ اسپینش زبان میں پریزنٹیشن دیناشروع کردیا۔ یہ پروگرام ان لیے صرف تربیت نہیں تھی، بلکہ ایک نئی ثقافت سے بھی روشناسی تھی جہاں سے انہیں کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملا۔
خواتین کی شرح خواندگی میں کمی صنفی عدم مساوات ہے:
پاکستان کا صوبہ بلوچستان دو دہائیوں سے شورش زدہ رہا ہے۔ یہ صوبہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو کہ معدنیات سے مالامال ہے۔ معدنی وسائل اور وسیع رقبے کے باوجود صوبہ بلوچستان کا شمار ملک کے پسماندہ اور سب سے کم تعلیم یافتہ صوبے میں ہوتا ہے۔ ایسے میں سائرہ جیسی خواتین کا آگے بڑھنا ایک بہت بڑی پیش رفت تصور کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP)کی جاری کردہ بلوچستان ڈویلپمنٹ اسٹیٹکٹکس رپورٹ 2023کے مطابق بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، رپورٹ کے مطابق جہاں مجموعی شرح خواندگی محض 46.7 فیصد ہے۔ اس میں خواتین کی شرح خواندگی صرف 27.3 فیصد ہے جبکہ مردوں کی شرح 63.3 فیصد تک ہے۔ یہ واضح فرق نہ صرف تعلیمی میدان میں صنفی عدم مساوات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ خواتین کی سماجی و معاشی شرکت میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں لڑکیوں کے لیے نہ صرف اعلیٰ تعلیم تک رسائی محدودہے بلکہ بہترتربیت اور فنی تعلیم کے مواقع بھی ناکافی ہیں۔تعلیمی مواقع کی کمی اور سماجی رویوں نے خاص طور پر خواتین کو تعلیم سے دور رکھا ہوا ہے، جس کے اثرات بلوچستان کی ترقی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزیدکہاگیا ہے کہ بلوچستان میں فنی مہارت رکھنے والی آبادی میں خواتین کی شرح صرف 7 فیصد ہے، جو کہ ملکی سطح پر سب سے کم ہے۔ ریکوڈک جیسے دیگرمنصوبوںمیں خواتین کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں روزگارکے مزیدمواقع فراہم کئے جائیں تو یہ صنفی مساوات اور معاشی ترقی کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
انسانی جانوں کاتحفظ اولین ترجیح:
بطور جیوٹیک انجینئر، سائرہ کا کام سائٹ کی فاﺅنڈیشن، سلوپ، اور حفاظتی زونز کی میپنگ کرنا ہے۔ وہ بتاتی ہیں: ”میرا کام صرف ڈرائنگ یا رپورٹ بنانا نہیں ہے، میں ان زونز میں حفاظتی اقدامات کی بھی تصدیق کرتی ہوں جہاں پرمزدور کام کرتے ہیں۔ اگر دیوار یا سلوپ غیرمحفوظ ہو تو ہم وہاں پرکام کی اجازت نہیں دیتے اورسائٹ پر کام کرنے والے متعلقہ حکام کواس بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔“
سائرہ ان چند خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے ہرطرح کی مشکلات کے باوجودمائننگ جیسے سخت شعبے میں قدم جمائے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”خواتین ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اگر انہیں مواقع فراہم کئے جائیں، تو وہ اپنی بہترین مہارتوں کاعملی مظاہرہ کرکے لوگوں کے لیے بہترین مثال بن سکتی ہیں۔“
سائرہ کی یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ترقی کے سفرمیں ابھرتے بلوچستان کی ہے جو مایوسی اورپسماندگی کے ماحول سے نکل کر عالمی سطح پرسامنے آرہاہے۔ خضدار، چاغی، ژوب، مکران، گوادر، پسنی اور خاران جیسے علاقوں کے نوجوان آج ارجنٹینا اور زیمبیا جیسے ممالک میں تربیت حاصل کر کے واپس بلوچستان لوٹ کر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ سائرہ کی طرح دیگر کئی نوجوان ریکوڈک منصوبے میں کام کرکے بلوچستان میں معدنی وسائل کے ساتھ تربیت یافتہ انسانی وسیلہ بھی فراہم کررہے ہیں۔
مائننگ کے شعبے میں ٹیکنیکل تربیت ضروری ہے:
ریکوڈک مائننگ کمپنی حکام کے مطابق مائننگ کے شعبے میں کام کرنے کے لئے ڈگری کے ساتھ ٹیکنیکل تربیت انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔آر ڈی ایم سی کے زیلی شعبہ ہیومن ریسورس (HR)کے سربراہ، ہینو اسٹیڈن نے کوئٹہ میں منعقدہ تقریب کے دوران بتایاکہ ریکوڈک کمپنی نے اپنے ملازمین کے لئے گزشتہ سال انٹرنیشنل گریجویٹ ڈویلپمنٹ پروگرام (IGDP)کاآغازکیاہے جس کا مقصد بلوچستان کے نوجوان انجینئرز کو عالمی معیارکے مطابق تربیت دینا ہے تاکہ وہ پاکستان لوٹ کر اپنی خدمات سرانجام دے سکیں۔ ہینوکے مطابق یہ بلوچستان کے مائننگ کے شعبے میں ایک اہم قدم ہے۔ پروگرام کے تحت گزشتہ سال2024میں مزید 18 نوجوان انجینئروں کو بیرک کے لموانااورویلاڈیرومائنز بھیجا گیاہے، جن کا تعلق بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔ان کے مطابق نوجوان انجینئروں کی تربیت کیلئے یہ پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ آر ڈی ایم سی کی مستقل افرادی قوت کا 75 فیصد بلوچستان سے ہے، جن میں 65 فیصد کا تعلق ضلع چاغی سے ہے، جبکہ ان ملازمین میں 14 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق سائرہ حسن کیساتھ پہلے بیچ میں شامل دیگرانجینئروں نے بیرک کی ارجنٹینامیں واقع ویلاڈیروماین میں” آن جاب“ تربیت مکمل کی اوران کاتعلق بلوچستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔جوفیلڈمیں جاکرملازمت کررہے ہیں۔
مقامی آبادی کی فلاح وبہبود کے لئے اقدامات:
ریکوڈک مائننگ کمپنی حکام کے مطابق بیرک مائننگ کارپوریشن کی قیادت میں (RDMC) سائٹ کے قریبی مقامی آبادی کو صاف پانی، صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کررہی ہے اوراس ضمن میں عملی طورپراقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ کمپنی کا ہدف ہے کہ 2028ءکے آخر تک منصوبے سے پیداوار کا آغاز کیا جائے۔حکام کے مطابق منصوبے پرپہلاحق ضلع چاغی کے عوام ہے اس کے بعدہم اپنی خدمات کوبلوچستان بھرمیں وسعت دیںگے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفیدہوسکیں۔
ریکوڈک منصوبہ بیرک مائننگ کارپوریشن اور پاکستان کی مشترکہ ملکیت:
سینئر کمیونکیشن آفیسرریکوڈک مائننگ کمپنی علی رضارند کے مطابق ریکوڈک منصوبہ بیرک مائننگ کارپوریشن اور پاکستان کی مشترکہ ملکیت ہے، جس میں پچاس فیصد حصہ بیرک کا، جبکہ بقیہ پچاس فیصد میں سے پچیس فیصد تین وفاقی اداروں، پچیس فیصد حکومت بلوچستان کے پاس ہے جس میں دس فیصد ”فری کیریڈ“ حصہ بھی شامل ہے۔ منصوبے کی مائننگ کادورانیہ کم از کم 37 سال ہے، ابتدائی مرحلے میں 7500 ملازمتیں اور بعد ازاں 3500 طویل المدتی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گی۔جبکہ اس منصوبے سے بالواسطہ طور پر 25,000 سے زائدنوجوانوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ علی رضا کے مطابق ریکوڈک سے نکلنے والی معدنیات کا نوے فیصد ویلیو ایڈیشن بلوچستان میں ہی ہو گا۔ انہوں نے بتایاکہ اب تک حکومت بلوچستان کو 17.5 ملین ڈالر رائلٹی کی مد میں اداکی گئی ہے۔
ضلع چاغی میں شرح خواندگی کی بہتری کے اقدامات:
علی رضا رند نے بتایاکہ بیرک مائننگ کمپنی ضلع چاغی میںشرح خواندگی کوبہتربنانے کیلئے کوشاں ہے اور ہم مختلف منصوبوں پرکام کررہے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں 7 اسکولوںکو فعال کرکے اساتذہ ودیگرعملے کی تعیناتیاں عمل میں لائی گئی ہیں، ان اسکولوں میں 403 بچے زیر تعلیم ہیں اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کوبااختیاربناکرانہیں باعزت روزگارکے ذرائع فراہم کرنے کے لئے انہیں مختلف ٹریڈزمیں ہنر بھی سکھارہے ہیں، اب تک 577 نوجوانوں کوالیکٹریکشن، پلمبنگ، کارپینٹری ودیگرشعبہ جات میںمفت فنی تربیت دی جاچکی ہے، ہنرمند نوجوان پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
سائرہ پر امید ہیں کہ وہ اپنے شعبے میں مزید ترقی حاصل کریں گی، وہ دیگر خواتین کے لئے ایک مثال سے کم نہیں۔


