آل پارٹیز بلوچستان کی کال پر ہڑتال اور پہیہ جام، مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، متعدد کارکنان گرفتار
کوئٹہ (انتخاب نیوز) آل پارٹیز کی کال پر بلوچستان بھر میں شٹر ڈاﺅن اور پہیہ جام ہڑتال جاری۔ ہڑتال کے دوران نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی، صوبائی و تحصیل کابینہ کے اراکین اور سینئر کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے ٹریفک کو مکمل طور پر بند کر کے سانحے کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ دریں اثنا شٹرڈاو¿ن اور پہیہ جام ہڑتال کے باعث بازار، مارکیٹیں، مالیاتی اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند، سڑکوں پر ٹریفک بھی معطل ہے۔ ائیرپورٹ مکمل بند، کوئی جہاز نہ جاسکا نہ آ سکا۔ کوئٹہ شہر میں 30 سے زائد مقامات پر روڈز مین شاہراہیں بلاک ہیں۔ اس دوران کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ کوئٹہ میں پہیہ جام ہڑتال کے دوران فائرنگ کی گئی، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایس ایچ او بروری زخمی ہوگئے۔ مستونگ میں نواب ہوٹل کے مقام پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہڑتالی مظاہرین پر شیلنگ کی گئی، نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر میر سکندر ملازئی سمیت سیاسی قائدین اور کارکن گرفتار کرلیے گئے۔ کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن حاجی نیاز بلوچ آٹھ ساتھیوں سمیت گرفتار خروٹ آباد تھانے میں بند کردیا گیا۔ کوئٹہ سریاب روڈ برمہ ہوٹل پر سیاسی کارکنان کا اجتجاج، ٹریفک کو بند کردیا گیا۔ دکی میں پی ٹی آئی اور پشتونخوا میپ کے کارکنان نے سڑکوں پر ٹائر نذر آتش کرکے احتجاج کیا، دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں۔


