جعفر ایکسپریس دھماکے میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس استعمال ہوئیں، ٹرینوں میں جیمر لگائے جائیں، قائمہ کمیٹی برائے ریلوے
اسلام آباد (انتخاب نیوز) ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے انکشاف کیا کہ جعفر ایکسپریس دھماکے میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اور چار سے پانچ ایکسپلوسوز استعمال کیے گئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کا اجلاس کنوینئر رمیش لال کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں جعفر ایکسپریس دھماکے، ریلوے زمینوں کے استعمال اور کراچی فریٹ کوریڈور منصوبے سمیت اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں ڈی آئی جی ریلوے پولیس نے جعفر ایکسپریس دھماکے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اور چار سے پانچ ایکسپلوسوز استعمال کیے گئے۔ ان کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم تحقیقات میں حساس ادارے شامل ہیں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ واقعہ ممکنہ طور پر بلوچستان سے پلان کیا گیا تھا، جب کہ ریلوے پٹریوں کی نگرانی اور ایف سی کے ساتھ مشترکہ گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے، کمیٹی نے ٹرینوں میں جیمرز لگانے کی بھی سفارش کر دی۔ اجلاس میں ریلوے کی زمینوں اور پراپرٹیز کے استعمال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ وزارت نے پہلی بار لینڈ اینڈ پراپرٹی ڈائریکٹوریٹ کے تحت باقاعدہ کام کا آغاز کیا ہے، ریلوے کی جائیدادوں کو تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جب کہ ہائی ویلیو پراپرٹیز لاہور اور کراچی سمیت بڑے شہروں میں واقع ہیں۔


