افغان مہاجرین کے گھر اور گاڑی سمیت جائیداد کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ (ویب ڈیسک) افغان مہاجرین کے گھر اور گاڑی سمیت جائیداد کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے حوالے سے یہ پابندی عائد کی جائے گی، جو ممکنہ طور پر وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد نافذ کی جائے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں رجسٹرڈ مہاجرین سے بھی خریدو فروخت پر پابندی عائد ہوگی۔ ذرائع کے بقول پشاور سمیت صوبہ بھر میں مہاجرین کی جانب سے خریدی گئی پراپرٹی اور گاڑیوں کا ڈیٹا پہلے ہی مرتب کیا جاچکا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ پابندی اس لئے عائد کی جارہی ہے کہ افغان مہاجرین کو حکومت پاکستان کی جانب سے بار بار دی جانے والی ڈیڈ لائن کے باوجود بھی وہ واپس نہیں گئے اور مختلف اضلاع میں مقیم ہیں۔ جبکہ کاروبار بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی لئے ذرائع کے بقول حکومت نے اب سخت ترین اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاک افغان بارڈرز مکمل طور پر کھل جانے کے بعد جو افغان مہاجرین واپس نہیں جائیں گے، ان سے نہ کوئی جائیداد خرید سکے گا اور نہ ہی کاروبار کی لین دین ہوگی۔ دوسری جانب طورخم بارڈر پر افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بارڈر کھلنے کے بعد پاکستانی ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں کی 92 خالی گاڑیاں بھی پاکستان پہنچ گئی ہیں۔ واضح رہے کہ یکم نومبر کو پاکستان کے مختلف شہروں سے واپس جانے والے افغان خاندانوں کی سہولت کیلئے طورخم بارڈر کھولا گیا اور اس دوران 7 ہزار سے زائد افغان شہریوں نے طورخم بارڈر کراس کیا۔ حکام کے مطابق بارڈر فی الحال افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے کھولا گیا ہے۔ جبکہ دو طرفہ تجارت اور پیدل آمد و رفت بدستور معطل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں