میں نے بلوچستان کی پہلی یوتھ پالیسی نوجوانوں کی براہِ راست را ئے سے تیار کی، جمالی رئیسانی

کوئٹہ(یو این اے )پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ نوجوان نسل (Gen Z) ایک یکساں گروہ نہیں، اور نہ ہی ریاست۔ ہر نسل اختیارات پر سوال کرتی ہے، جو کہ صحت مند ہے، لیکن پاکستان کے مسائل کو صرف "بوومر سسٹم بمقابلہ Gen Z” کے فارمولے میں محدود کرنا تجزیاتی طور پر غلط اور حقائق کے منافی ہے۔نوابزدہ جمال رئیسانی نے کہا کہ وہ خود Gen Z سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستان کے سب سے نوجوان رکن قومی اسمبلی ہیں، اور نظام کے اندر کام کر رہے ہیں کیونکہ مطالبات صرف اسی صورت پورے ہوتے ہیں جب آپ فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بلوچستان کی پہلی Youth Policy کی قیادت کی، جو نوجوانوں کی براہِ راست رائے سے تیار کی گئی تاکہ نوجوانوں کے جذبات کو ادارہ جاتی اصلاحات میں بدلا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کا کردار ریاست کی خودمختاری کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اسے مضبوط کرنا ہے۔ ریاستی ادارے اور ملک تب ہی مضبوط رہتے ہیں جب شہری حصہ لیتے ہیں، شامل ہوتے ہیں اور اداروں میں اصلاحات لاتے ہیں۔ نوجوانوں کی توانائی کو صرف عملی شمولیت میں استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ محض اظہارِ غصے یا سیاسی انتقام کے لیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں