بلوچستان کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں، صوبے میں برسر اقتدار لوگ نہیں چاہتے کہ امن قائم ہو، نیشنل پارٹی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سنیٹر جان محمد بلیدی اور رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ سے تربت یونیورسٹی کے ایل ایل بی کے فائنل ائیر کے طلبا کی پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں اہم ملاقات۔ بلوچستان کے طلبا کا پارلیمنٹ ہاﺅس میں شاندار استقبال کیا گیا اور ایوان بالا و ایوان زیریں (سینیٹ اور قومی اسمبلی ) کا دورہ کرایا گیا پارلیمنٹ اور پاکستان کے آئین کے تاریخ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گی۔ سینیٹر جان محمد بلیدی اور رکن قومی اسمبلی پھلین بلوچ نے پارلیمنٹ کا دورہ کرنے والے طلبا کے اعزاز میں چائے پارٹی کا اہتمام کیا، چائے کے ٹیبل پر طلبا کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے پارلیمنٹیرن نے پارلیمنٹ میں بلوچ قائدین کے سیاسی کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل عوامی پارٹی کی طویل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ملک میں ون یونٹ ختم ہوا اور ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر ملک میں جمہوری نظام عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو صوبے کا درجہ بھی نیپ کی سیاسی و قومی جدوجہد کے بدولت نصیب ہوا۔ نیپ کی قیادت نے قیدو بند اور جبر کے سامنے سیاسی و جمہوری انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے ملک میں پارلیمانی و جمہوری نظام کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے، آج اس ملک میں جو جمہوری عمل ہے اس کے لیے ملک کے سیاسی قیادت اور عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ملک کی مقتدرہ سیاسی و انتخابی عمل کو سبوتاژ کرتی ہے اور جمہوری عمل پر اثر انداز ہوکر اپنے من پسند لوگوں کو اسمبلیوں میں لاتی ہے۔ آج بلوچستان کی صورتحال بہت زیادہ خراب ہے امن و امان کی صورتحال بہت زیادہ خراب ہے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، بچے روزانہ ماورائے قانون جبری گمشدگی کی نذر ہورہے ہیں۔ اس سے حالات کی سنگینی میں اضافہ ہورہا ہے بلوچستان اور پاکستان کی حکومت نمائندہ حکومت نہیں ہے یہ بدترین انتخابی دھاندلی کی بنیاد پر لائے ہوئے لوگ ہیں بلوچستان میں جو لوگ برسر اقتدار ہیں بنیادی طور پر یہ بلوچستان میں جاری بربادی اور لگی آگ کے بین فشری ہیں یہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن ہو۔ بلوچستان کی سیاسی و جمہوری جماعتوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور سیاسی پارٹیوں کے سیاسی اسپیس پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے جب تک صاف و شفاف انتخابی عمل کو یقینی نہیں بنایا جائے گا حالات روز بہ روز خراب ہونگے۔ انھوں نے پارلیمنٹ پہنچنے پر تربت یونیورسٹی کے طلبا کو خوش آمدید کیا اور پارلیمنٹ کے دورے کے دوران مسلسل طلبا کے ساتھ رہے۔


