ناڑی میں اتری زندگی

تحریر: شکور بلوچ
ناڑی ایک خشک، گرم اور میدانی خطہ۔ظاہر میں سخت مگر باطن میں بے حد زرخیز ہے۔ یہاں کی مٹی میں فصل اگانے کی سکت ہے، بس کمی ہے تو پانی کی؛ وہی کمی جو ہر موسم کو امتحان بنا دیتی ہے۔ پورے علاقے کی سانسیں برساتی دریائے ناڑی سے جڑی ہیں، ایک ایسی شہ رگ جس میں زندگی تب ہی دوڑتی ہے جب پہاڑوں پر بارش مہربان ہو۔ ناڑی میں اگر درست وقت پر، درست مقدار میں پانی آ جائے تو کھیت لہلہاتے ہیں، جانوروں کے لیے گھاس ا±گتی ہے، اور گدھ، اونٹ، بکریاں، کتے اور انسان سب کے مشترکہ پیاس بجھانے والے تالاب بھر جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ناڑی میں پانی نہیں، زندگی ا±تری ہو۔ پانی کا آنا یہاں صرف ایک قدرتی واقعہ نہیں، ایک تہوار ہے۔ بارش کی خبر ملتے ہی دل خوشی سے بھر جاتے ہیں، اور جب ناڑی کا سینہ لبریز ہوتا ہے تو اہلِ علاقہ اپنی روایت کے مطابق مخصوص گیت گاتے ہیں، دعاو¿ں میں لپٹے ہوئے، امید سے بھرے ہوئے۔ تالاب اور بند بھرنے کے لمحات میں یہ گیت زور زور سے گونجتے ہیں، جیسے زمین آسمان کا شکر ادا کر رہی ہو۔ ناڑی بہتی ہے، اور اس کے ساتھ ہماری خوشی، ہماری بقا، ہماری کہانی بھی بہہ نکلتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں