پینٹاگون نے جنگی مقاصد کیلئے استعمال ہونیوالے اے آئی سسٹم کی خریداری کے اقدامات کا آغاز کردیا
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے ایسے اے آئی سسٹم کی خریداری کی کوشش کی ہے جو براہِ راست جنگی مقاصد میں استعمال ہو سکتا ہے۔ اس اقدام نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں ہے بلکہ مستقبل کی جنگوں، انسانی ذمہ داری اور بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی کمپنی ’اینتھروپک‘ کی تیار کردہ اے آئی سسٹم ’کلاڈ‘ کو مبینہ طور پر وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف آپریشن کی منصوبہ بندی میں استعمال کیا گیا۔ یہ خبر اس لیے حیران کن تھی کیونکہ کمپنی کے اپنے اصول واضح ہیں اور ان کے اے آئی ماڈلز کو جنگ یا اجتماعی نگرانی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اینتھروپک کا مو¿قف ہے کہ اس کے ماڈلز کی ساخت میں اخلاقی اصول شامل کیے گئے ہیں تاکہ وہ خودکار ہتھیار یا عسکری آپریشنز میں شریک نہ ہو سکیں۔ دوسری جانب، رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے کمپنی کو اعتماد میں لیے بغیر یہ نظام استعمال کیا اور بعد ازاں ایسے ”غیر محدود“ ورژن تک رسائی مانگی جو اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہو۔ کمپنی کے انکار پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کمپنی پرکھلے عام تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”پینٹاگون کو ایسے نیورل نیٹ ورکس کی ضرورت نہیں جو لڑ نہ سکیں“، انہوں نے کمپنی کو سپلائی چین کے لیے خطرہ قرار دینے کی دھمکی بھی دی، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ دیگر دفاعی ادارے اس سے تعلق ختم کر دیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تنازع ٹیکنالوجی اور اخلاقیات کے بیچ بڑھتی خلیج کی علامت ہے۔ ایک طرف کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کو مکمل آزادی دینی چاہیے چاہے نتائج جو بھی ہوں، جبکہ دوسرا طبقہ خبردار کرتا ہے کہ اگر انسانی کنٹرول ختم ہو گیا تو نقصانات ناقابلِ واپسی ہوں گے۔


