مجھ سمیت شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہمشند تھے ،گورنر پنجاب
اسلام آبادۛگورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو عدالت نے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی،اب انہیں واپس آجانا چاہئے،شہبازشریف کی نوازشریف کے بغیر کوئی حیثیت نہیں،حتمی فیصلہ اب بھی نوازشریف کا ہی مانا جاتا ہے،کیونکہ عوام صرف نوازشریف کو ہی ووٹ دیتے ہیں،مجھ سمیت،شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہمشند تھے لیکن عمران خان نے عثمان بزدار کو چنا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ نوازشریف کی صحت دیکھ کر لگتا تھا کہ علاج باہر ہی ہوگا،سابق وزیراعظم کو ملک سے باہر جانے کی اجازت عدالت نے دی تھی،تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی بیماری کا وہاں علاج نہیں ہوا ہے لیکن جب میڈیکل رپورٹس سامنے آئیں گی تو حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔چوہدری سرور نے کہا کہ کرپشن نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے،کرپشن نے ملک اور اداروں کو تباہ کردیا ہے،کرپشن کے خلاف ہماری پالیسی زیرو ٹالرنس والی ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے،تحریک انصاف کی حکومت نیب نہیں ہے اور نیب کا ادارہ تحریک انصاف نہیں ہے،دونوں کے گٹھ جوڑ کا تاثر غلط ہے،نیب نے ہمارے وزراء کو بھی طلب کیا ہے،حکومت اور قوم نوازشریف کے بارے میں حقیقت جاننا چاہتی ہے،میں بھی سمجھتا ہوں کہ نوازشریف کو واپس آنا چاہئے۔چوہدرے سرور نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) اور شریف خاندان کو اندرونی اختلافات ختم کرنے چاہئیں،نوازشریف کے بغیر شہبازشریف کی کوئی حیثیت نہیں ہے،آخری فیصلہ اب بھی نوازشریف کا ہی مانا جاتا ہے اور عوام ووٹ بھی نوازشریف کے نام پر ہی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں مختلف رائے پائی جاتی ہیں یہ کبھی کہتے ہیں کہ اے پی سی بلائیں گے جبکہ کبھی تحریک چلانے کا کہتے ہیں،ان کی یہ خواہش ضرور ہے کہ عمران خان کی حکومت گرائی جائے،اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کے اندر بھی دو رائے پائی جاتی ہیں،جب تحریک انصاف حکومت بنی تو ملک کو بہت سے چیلنجز درپیش تھے،ہمیں سب سے بڑا چیلنج قرضے کی قسطیں ادا کرنے کا تھا،وزیراعظم کے سامنے پہلا ٹاسک ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جو کامیابیاں حاصل کیں ان کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچے،وزیراعظم عمران خان کا احتساب کے بارے میں پیغام بالکل واضح ہے کہ کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے،ہمارے ملک میں انکوائری اور کمیشن کی رپورٹس منظر عام پر لانے کا رواج ہی نہیں تھا،عمران خان نے حقائق عوام کے سامنے رکھنے کی روایت ڈالی ہے،اس پر تعریف کرنے کی بجائے اپوزیشن انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔جہانگیر ترین کو این آر او دینے کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے،وزیراعظم عمران خان نے شوگر قیمتوں پر تحقیقات کا حکم دیا ہے،ایف بی آر اور دیگر اداروں کو تین ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے،جہانگیر ترین اداروں کی تفتیش اور عدالت میں اپنا دفاع کرکے خود کو کلیئر کروالیں تو دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں،وزیراعظم عمران خان قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں،علیم خان اور سبطین خان کے خلاف انکوائری ہوئی کلیئر ہونے کے بعد دوبارہ وزیر بن گئے،وزیراعظم عمران خان کو پارٹی کے اندر معیار قائم کرنے کا کریڈٹ دیتا ہوں،اگر جماعت کے اندر کسی کے خلاف مہم چلتی ہے تو وزیراعظم عمران خان اس کا الٹا اثر لیتے ہیں،وہ سنی سنائی باتوںپر کان دھرنے کی بجائے اپنا ذہن استعمال کرکے فیصلہ کرتے ہیں۔عثمان بزدار کے وزیراعلیٰ بنتے ہی ان کے خلاف مہم کا آغاز ہوگیا تھا،جب اس قسم کی مہم چلتی ہے تو لوگ دل میں اپنی خواہش رکھتے ہیں،جب تک وزیراعظم عمران خان کا وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد ہے کسی اور کو اس عہدے کی خواہش نہیں رکھنی چاہئے۔کسی کو وزیراعلیٰ رکھنا یا ہٹانا وزیراعظم کا اختیار ہے،وزارت اعلیٰ کی خواہش رکھنے والا کوئی بھی شخص اپنا سیاسی فائدہ نہیں کر رہا،سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کسی بھی جگہ وزیراعلیٰ بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی،ان کے متعلق یہ سب قیاس آرائیاں ہیں،مختلف سوچ اور نظریہ رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اتحادیوں میں دوریاں پیدا ہوگئی ہیں،پاکستان میں چھوٹی سی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،وزیراعظم عمران خان جب لاہور آتے ہیں اور کسی وجہ سے مجھ سے ملاقات نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ مجھ سے ناراض ہیں،صوبہ وزیراعلیٰ نے چلانا ہوتا ہے،اتحادیوں کا وزیراعلیٰ پر اعتماد ہے۔انہوں نے کہا کہ تحفظ اسلام بل پر اس وقت تک دستخط نہیں کروں گا جب تک تمام مکاتب فکر کے لوگ اس پر متفق نہ ہوجائیں،96 فیصد مسلم آبادی والے ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے،ہمیں آئے روز نئے جھگڑے شروع نہیں کرنے چاہئیں،ہم سب لوگوں کو ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں جبکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے پاکستان میں بہت کام ہورہا ہے،جو بڑھتے اسلام فوبیا کے ماحول میں رول ماڈل کا کردار ادا کر سکتا ہے


