خضدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں خود ساختہ اضافہ، ٹرانسپورٹر مسافروں سے من مانے پیسے وصول کرنے لگے

خضدار (بیورو رپورٹ) خضدار پبلک ٹرانسپورٹروں کا کرایوں میں خودساختہ اضافہ، مسافر پریشان، خضدارانتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق خضدار میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بے تحاشا اضافے نے مسافروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں مقامی ٹرانسپورٹروں نے سرکارکا پرانا کرایہ نامہ نظر انداز کرکے خودساختہ من مانے ریٹ مقررکرلئے ہیں خضدار سے کوئٹہ، کراچی، قلات سوراب مستونگ لسبیلہ حب چوکی اور وڈھ، زہری کرخ مولہ نال جانے والی گاڑیوں کے کرایوں میں 200 سے 500 روپے تک اضافہ کر دیاگیا ہےمسافروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل یا پیٹرول کی قیمت بڑھے بغیر بھی کرایوں میں مرضی سے بڑھا دیاجاتا ہے طلبہ، مزدور اور کم آمدنی والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں روزانہ سفر کرنے والے ملازمین کے لیے اضافی کرایہ ناقابل برداشت ہوچکا ہے سادہ لوح مسافروں سے بھی زیادہ کرایہ طلب کیا جاتا ہے اور انکار پر بدتمیزی کی شکایات عام ہیں، بس،کوچ اور ویگن مالکان نے اپنا الگ ہی کرایہ نامہ بنا رکھا ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ پرانی کرایہ نامہ کسی بھی اڈے پر آویزاں نہیں ہے شہریوں نے شکایت کی کہ ٹرانسپورٹرزہروقت تیل کی مہنگائی اورکسی بھی بہانے سے کرایہ بڑھا دیتے ہیں ہرخوشی کے موقع پر کرایوں میں دوگنا اضافہ معمول بن چکا ہے خضدار سے کراچی کا سرکاری کرایہ 1500 ہے مگر 2000 روپے لیا جارہا ہے بلکہ 2200 روپے تک وصول کیے جارہے ہیں، خضدار سے کوئٹہ کا کرایہ 1000 روپے کے بجائے 1400/1200 روپے لیا جارہا ہے انتظامیہ کی جانب سے کئی ماہ سے کرایوں کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے، پولیس اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اہلکار بھی کارروائی سے گریزاں ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمشنر قلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنر خضدار سے مطالبہ کیا ہے کہ کرایوں کو پیٹرول اورڈیزل کی قیمت سے منسلک کرکے ماہانہ بنیاد پر ریگولیٹ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں