ریکوڈک منصوبہ اور ضلع چاغی میں ترقی کی ضرورت
تحریر: وقار ریکی دالبندین ضلع چاغی
ریکوڈک پروجیکٹ نے جب سے عملی طور پر کام کا آغاز کیا ہے، اس کے مثبت اثرات خصوصاً نوکنڈی اور اس کے گرد و نواح میں کسی حد تک نمایاں نظر آتے ہیں۔ تعلیم، صحت اور فنی تربیت کے شعبوں میں کیے گئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ اسکولوں کی بہتری، طلباء کےلیے اسکالرشپس اور ہنر فاؤنڈیشن کے ذریعے نوجوانوں کو فنی تربیت کی فراہمی جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ منصوبے کے منتظمین علاقے کی ترقی میں سنجیدہ ہیں، اسی طرح انڈس ہسپتال نیٹ ورک کے تحت نوکنڈی، ہمئے، مشکی چاہ اور دیگر علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے، آر ڈی ایم سی کی جانب سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے والے 22 طلباء اور ایک طالبہ کو کوئٹہ کے ایک نامور تعلیمی ادارے میں تعلیم کےلیے اسکالرشپ دینا ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے قبل بھی سکھر آئی بی اے کے "فاؤنڈیشن سمسٹر اسکالرشپس” کے ذریعے 52 طلباء و طالبات کو معاونت فراہم کی جا چکی ہے، جس کا مقصد انہیں ملک کی اعلیٰ جامعات میں داخلے کے قابل بنانا ہے۔ یہ اقدامات یقیناً قابلِ ستائش ہیں اور علم دوستی کی روشن مثال پیش کرتے ہیں، تاہم اس تمام ترقی کے باوجود ایک اہم پہلو نظرانداز ہوتا دکھائی دیتا ہے، اور وہ ہے ان سہولیات کا محدود دائرہ، بیشتر ترقیاتی سرگرمیاں نوکنڈی تک مرکوز رہی ہیں، جبکہ ضلع چاغی کے دیگر علاقے اب بھی ان سہولیات سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو سکے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ریکوڈک پروجیکٹ اپنے ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے انہیں پورے ضلع چاغی تک وسعت دے، ہنر فاؤنڈیشن کے تربیتی پروگرامز کو ضلع بھر میں پھیلایا جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی ہنر سیکھ کر اپنے مستقبل کو سنوار سکیں، اسی طرح اسکالرشپ پروگرامز کو چند مخصوص علاقوں تک محدود رکھنے کے بجائے پورے ضلع کے طلباء کےلیے قابلِ رسائی بنایا جائے، نوکنڈی سی ڈی سی کی جانب سے مقامی سطح پر کئی مؤثر تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن کی بدولت متعدد ترقیاتی کام پایہ تکمیل کو پہنچے۔ ریکوڈک پروجیکٹ کے ذمہ داران نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ 2026 تک سی ڈی سی کو ضلعی سطح تک وسعت دی جائے گی، مگر تاحال اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی، ضلع چاغی جو رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کا سب سے بڑا ضلع ہے، وہاں ضلعی سطح پر سی ڈی سی کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے، دالبندین جو ضلع کا صدر مقام ہے، اس مقصد کے لیے موزوں ترین جگہ ہو سکتی ہے۔ اگر یہاں ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دی جائے تو صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، خصوصاً پرنس فہد ہسپتال جو ضلع کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے، شدید سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔ معمولی بیماری کی صورت میں بھی مریضوں کو کوئٹہ یا کراچی کا رخ کرنا پڑتا ہے، ڈی ایچ کیو ہسپتال دالبندین میں طبی سہولیات کے فقدان کے باعث زچگی کے دوران ماں اور بچوں کی اموات میں اضافہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے، اسی طرح گردوں کے مریضوں کےلیے ڈائیلاسز مشینوں اور متعلقہ سہولیات کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے جس کے باعث مریضوں کو دور دراز شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کےلیے ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی، جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے، جس میں آر ڈی ایم سی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اسی طرح دالبندین میں ہنر فاؤنڈیشن کی ایک شاخ کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ مقامی نوجوانوں کو ہنر سیکھنے اور باعزت روزگار کے مواقع میسر آ سکیں، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ریکوڈک پروجیکٹ نے ایک مثبت آغاز کیا ہے، مگر اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان اقدامات کو مزید وسعت دے کر پورے ضلع چاغی تک پھیلایا جائے، ضلعی سطح پر سی ڈی سی کا قیام، تعلیم و صحت کی سہولیات میں بہتری اور نوجوانوں کےلیے یکساں مواقع کی فراہمی ہی اس خطے کی حقیقی اور پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔


